خطبات محمود (جلد 1) — Page 119
119 انہوں نے رمضان کا چاند دیکھا اور اس نبی کو مان کر تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھا ئیں اور اپنے اموال کو دین کے لئے خرچ کیا حتی کہ بیوی بچے ان سے چھڑائے گئے اور انہوں نے دین کی خاطر چھوڑ دیئے اور بھوکے رہے مگر بھوک کی پرواہ نہ کی۔پھر جنہوں نے رمضان کے کچھ دن پائے وہ بھی قابل قدر اور خدا کے نزدیک مقبول ہیں۔ہاں جب عید کا چاند نکل آئے گا اس وقت ہمارے ساتھ جو لوگ شامل ہوں گے جو بچہ کی حالت میں ہوں گے وہ ہمارے ساتھ کوششوں اور کاوشوں میں شامل نہ ہوں گے بلکہ عید کے دن آئیں گے اور بچوں کی طرح ان کی عید کپڑے پہننے اور کھانا کھانے کی عید ہوگی۔وہ اس وقت ہماری عید کے کھانے میں سے حصہ مانگیں گے لیکن ان پر ان لوگوں کا حق مقدم ہے جنہوں نے رمضان کا چاند دیکھا اور اس کی تکلیفوں کو برداشت کیا اس میں بھوکے رہے۔پھر وہ لوگ جنہوں نے دوسری رات کا چاند دیکھا۔یا اس کے بعد کی تاریخوں میں یا لیلتہ القدر کے بعد کے زمانہ میں آئے اور انہوں نے اس وقفہ میں جو لیلہ القدر سے لیکر عید تک کا ہوتا ہے شامل ہو کر تکلیفوں اور مصیبتوں کو اٹھایا ہے وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے پہلی رات کا چاند دیکھا کیونکہ جو شخص نماز کے رکوع میں شامل ہو جاتا ہے وہ اسی شخص کی طرح ہے جس نے قیام کو پایا ۱۸، کیونکہ ابھی عید کا چاند نہیں چڑھا۔اس لئے تم لوگ جنہوں نے یہ زمانہ پایا ہے ہوشیار ہو جاؤ اپنی اصلاح کرو اور دوسروں کے مصلح بنو۔اس زمانہ سے جو لوگ فائدہ اٹھائیں گے وہی کامیاب اور کامران ہونگے اور وہ اس کی نسبت جو عید کے دن آکر ہم سے ملیں گے بہت اعلیٰ درجہ رکھیں گے۔پس جو تمہیں وقفہ ملا ہے اس کی قدر کرو اور اس میں قربانیاں کرو کیونکہ روحانی رمضان کے مہینے کا یہی حق ہے کہ اس میں قربانیاں کی جائیں۔اس میں بھوکے رہو اور اپنا مال قربان کرد یہاں تک کہ عید آجائے اور بچوں کی سی حالت رکھنے والے وہ لوگ بھی شامل ہو جائیں جنہوں نے روحانی رمضان میں نبی کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی کسی قسم کی قربانی کی۔ایسے لوگوں کو ہی مد نظر رکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔بے خدا کوئی بھی ساتھی نہیں تکلیف کے وقت اپنا سایہ بھی اندھیرے میں جدا ہوتا ہے ؟ دیکھو ۴۰ کروڑ مسلمان ہیں لیکن وہ چاند جو تاریکی کو جہان سے دور کرنے کے لئے چڑھا اس کو انہوں نے نہ دیکھنا چاہا بلکہ الٹا اس پر خاک ڈالنے کی کوشش کرنے لگے۔انہوں نے اس