خطبات محمود (جلد 1) — Page 113
١١٣ تاریخ کو بہت بے قرار ہوتے ہیں کہ کسی طرح عید ۲۹ روزوں کے بعد ہی ہو جائے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ ۲۹ گذر جاتی ہے اور ۳۰ تاریخ آتی ہے اور ۳۰ تاریخ کے بعد ممکن نہیں کہ عید نہ ہو۔لیکن باوجود اس کے کہ تمیں روزوں کے بعد ہونی لازمی ہے خواہ چاند نظر آئے یا نہ آئے پھر بھی لوگ شوق سے چھتوں پر چڑھ کر عید کے چاند کو دیکھتے ہیں۔اگر یہ کہہ دیا جائے کہ وہ چاند کو اس لئے دیکھتے ہیں کہ پہلی رات کا چاند ہوتا ہے۔تو میں کہتا ہوں کیوں نہیں وہ اور مہینوں میں پہلی تاریخ کے چاند کو دیکھتے حالانکہ اور مہینوں میں بھی تو چاند نکلتا ہے۔پھر وہ کیا چیز ہے جو بچوں اور بوڑھوں کو عید کا چاند دیکھنے کا مشتاق بناتی ہے۔میں کہتا ہوں وہ وہی عید کا شوق اور ولولہ ہے جو عید کی طرف آدمی کو کھینچتا ہے اور اسی طرح کھینچتا ہے جس طرح محبوب کو ملنے کا شوق استقبال کے لئے لے جاتا ہے اور انسان راستہ میں ملتا ہے۔پس اس محبوب کے استقبال کی طرح لوگ پہلے ہی سے عید کے چاند کو دیکھنا چاہتے ہیں۔اس کے لئے بے قرار ہوتے ہیں اور عید کے لئے استقبالی ولولہ اور جوش ان میں پیدا ہو جاتا ہے جس سے وہ عید کے منتظر اور اس کے لئے بے قرار ہوتے ہیں۔یہ رمضان جو گذرا ہے اس میں ۳۰ روزے پورے ہو گئے اور ہمیں یقین تھا کہ کل ضرور عید ہوگی باوجود اس یقین کے پھر بڑوں اور چھوٹوں نے بڑے شوق سے کل چاند دیکھا اور وہ ولولہ اور جوش اور شوق جو استقبال محبوب کے لئے پیدا ہوتا ہے ان میں عید کے لئے پیدا ہوا۔جب لوگ چھتوں پر چاند کو دیکھنے کے لئے چڑھے تو میں بھی چھت پر چڑھا اور دور بین سے میں نے چاند کو دیکھنا چاہا کیونکہ میری نظر کمزور ہے لیکن میں نہ دیکھ سکا اور بیٹھ گیا۔اچانک میرے کان میں ایک بچہ کی جو میرا ہی بچہ ہے۔آواز آئی جو یہ تھی۔کہ چاند دیکھ لیا۔چاند دیکھ لیا۔میں نے بھی چاند دیکھ لیا۔اس آواز نے میرے اندر ایک لہر پیدا کر دی اور ایسی کیفیت میرے اندر پیدا ہو گئی جو اب تک ہے۔اور اب بھی متواتر وہ مضمون میرے دماغ میں آتا ہے اور یہی آواز کان میں آتی ہے کہ ”چاند دیکھ لیا۔چاند دیکھ لیا۔میں نے بھی چاند دیکھ لیا۔" کیسی خوشی ہوگی اس وقت اس بچہ کو جب اس نے عید کا چاند دیکھا اور پھر اس نے بچہ ہونے کی حیثیت میں چاند کو دیکھا اور اس وقت دیکھا جب کہ اس چاند کو کئی تیز نظر والے بڑے بھی نہ دیکھ سکتے تھے۔اس بچہ کی آواز کے اندر دو جذبات تھے جو ظاہر ہوتے تھے۔اس نے کہا۔”میں نے بھی چاند دیکھ لیا۔اس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ جیسے اور لوگوں نے عید کا چاند دیکھ لیا ہے ویسے ہی اس نے بھی دیکھ لیا ہے اور دوسرے یہ کہ ” میں نے بھی دیکھ