خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 932 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 932

خطبات محمود ۹۳۲ سال ۱۹۳۸ء ایسے بیوقوفوں کی وجہ سے وہ زیادہ ضروری کام چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے ایسے بے وقوف تو ہمیشہ ہوتے آئے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی تھے اور آپ سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی تھے اور ہمیشہ باقی رہیں گے۔جس طرح کی پاگلوں کو دنیا سے نہیں مٹایا جا سکتا ایسے لوگوں کا مٹایا جانا بھی ناممکن ہے اور اس لئے کہ ایسے بے وقوف اعتراض نہ کریں ناظروں کو بہتر کام چھوڑ کر اپنے لئے نسبتاً معمولی کام تجویز نہیں کرنا چاہئے۔اس وقت تک وہ ایسا نہیں کرتے رہے اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ خیال نہ آیا ہو اور یہ بھی کہ کام کے لئے آدمی نہ مل سکتے ہوں لیکن اب ایسا کرنے کی کوشش انہیں کرنی چاہیے۔جو دوست باہر سے آتے ہیں انہیں بھی چاہئے کہ دفاتر میں جا جا کر ناظروں سے ملیں اور دیکھیں کہ کام کس طرح ہورہا ہے، کام کی نوعیت کیا ہے ، عملہ کتنا ہے اگر دوستوں کو یہ علم ہو کہ کام زیادہ اور کا رکن تھوڑے ہیں تو ان کے دل میں یہ تحریک ہو سکتی ہے کہ پنشن لے کر یہاں آئیں گی اور کام کریں۔اس کے علاوہ بعض وسو سے بھی دور ہو سکتے ہیں۔بعض لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ ہم نے فلاں کام کہا تھا مگر وہ اب تک نہیں ہوا اور حالات کو دیکھ کر ان کا شکوہ دور ہوسکتا ہے اور ناظروں کو بھی چاہئے کہ دن رات کا زیادہ سے زیادہ حصہ ملاقاتوں کے لئے فارغ رکھیں۔اگر اس کے ساتھ اور کام بھی وہ اپنے ذمہ رکھیں گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ طبیعت میں چڑ چڑا پن پیدا ہو جائے گا۔اگر کوئی کہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا تو میں اس بات کو صحیح ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ایسے حالات میں چڑ چڑا پن پیدا ہونا ضروری ہے۔ایک شخص آ کر بات کرے گا یہ اسے مختصر جواب دیں گے وہ اس کی مزید وضاحت چاہے گا اور یہ کثرت کا ر کی وجہ سے یہ کہہ دیں گے کہ آپ تو خواہ مخواہ مغز چاٹ رہے ہیں اور وہ ناراض ہو کر چلا جائے گا۔پس چاہئے کہ ناظر دس بارہ گھنٹہ ضرور اپنے دفاتر میں بیٹھے رہیں اور دوستوں کو دعوت دیں کہ آئیں اور ان سے ملاقاتیں کریں اور اس طرح رات دن کا نفرنس میں شریک رہیں ان کو اپنی مشکلات بتا ئیں تاج ان کے اندر زیادہ سے زیادہ تعاون کی روح پیدا ہو۔پس میں امید کرتا ہوں کہ دوست ان ایام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے اور ناظر بھی ایسے رنگ میں اپنے اوقات صرف کریں گے جو جماعت کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کا موجب ہوسکیں۔