خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 930 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 930

خطبات محمود ۹۳۰ سال ۱۹۳۸ء پھر ہمارے مہمانوں میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو چاول کے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنہوں نے سارا سال گھر میں دال کی شکل بھی نہیں دیکھی ہوتی بلکہ جن کے نوکر بھی دال نہیں کھاتے۔اس کے علاوہ دیہات کے لوگ گھر کا خالص گھی کھانے کے عادی ہوتے ہیں اور بازاری گھی کھانے سے فوراً ان کا گلا خراب اور کھانسی شروع ہو جاتی ہے اور پھر ایسے علاقوں کے بھی لوگ ہوتے ہیں جو تیل کھانے کے عادی ہیں اور جب گھی کھاتے ہیں تو ان کا گلا کی خراب ہو جاتا ہے یو۔پی اور بہار وغیرہ میں تیل کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے زمانہ طالب علمی میں ان علاقوں کے طلباء یہاں پڑھا کرتے تھے وہ بعض اوقات کھانستے ہوئے آتے اور کھانسی کی وجہ یہ بتاتے کہ گھی کھانے سے ہو گئی ہے لیکن کچھ عرصہ یہاں رہ کر ان کو گھی کی عادت ہو جاتی ہے اور جب رخصتوں میں پھر گھر جا کر تیل کھانا پڑتا تو پھر اس سے کھانسی ہو جاتی اور ظاہر ہے کہ اتنے طبقوں اور اتنی نوعیت کے لوگوں کو کون خوش کر سکتا ہے اور کس طرح کر سکتا ہے ہے جو مخلص یہاں آتے ہیں ان کو خوش کرنے کا تو سوال ہی نہیں ہوتا۔ان کو تو یہاں کا کوئی آدمی کی چیں بجبیں ہو کر بھی دیکھے تو وہ اس پر بھی مسکراتے ہیں کہ یہ چیں بجبیں بھی قادیان کی ہے اور اس لئے ان کو خوش کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن ان کی عادتوں یا صحت کی کمزوری کی وجہ سے جو تکلیف ہوتی ہے اس کو کون دور کر سکتا ہے۔جہاں تک تو خوشی کا تعلق ہے وہ ہر چیز کھانے کے لئے تیار ہوتے ہیں اور ایسا مزہ لے لے کر کھا سکتے ہیں کہ گویا دنیا جہاں کی نعمتیں حاصل کی ہو گئیں مگر ان سے وہ بعد میں اگر بیمار ہو جائیں تو اس میں تو ان کا کوئی قصور نہیں۔تو ایسی مشکلات میں یہ جلسہ ہوتا ہے اور ان سب کے باوجود اس لئے لوگ یہاں آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو خوش کریں مگر کئی ہیں جو عدم علم اور نا واقعی کی وجہ سے ان ایام سے پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتے حالانکہ جتنی قربانی کسی چیز کے لئے کی جائے اتنی ہی اس کی قدر ہونی چاہئے اس لئے میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان دنوں کو نمازوں ، دعاؤں اور ذکر الہی میں صرف کریں، جماعتیں باہمی ملاقاتوں میں صرف کریں۔یہ ایسا موقع ہوتا ہے جب باہمی واقفیت آسانی سے کی پیدا ہوسکتی ہے۔اسلام اور احمدیت نے ( کہ یہی حقیقی اسلام ہے ) اب جس قسم کی مساوات کو قائم کرنا ہے وہ با ہم کثیر تعارف اور ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ واقفیت کے بغیر نہیں