خطبات محمود (جلد 19) — Page 929
خطبات محمود ۹۲۹ سال ۱۹۳۸ء جگہ کی تنگی کی یہ حالت ہوتی ہے کہ بعض دفعہ کمروں میں اس طرح آدمی ٹھونسے ہوئے ہوتے ہیں۔جس طرح ڈبے میں مرغیاں۔مجھے ایک دفعہ کسی غرض سے سیالکوٹ کی جماعت کے کمرے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانا پڑا اور اتنے میں ہی مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ گویا میرے پاؤں جل کر گوشت اتر جائے گا باوجود یکہ شدید سردی کے دن تھے۔آج کل کتنی کی سخت سردی پڑ رہی ہے آج ہی خبر آئی ہے کہ انگلستان میں نو آدمی سردی کی وجہ سے مر گئے اور کی گو ہندوستان میں اتنی سردی تو نہیں ہوتی مگر پھر بھی بہت کافی ہوتی ہے لیکن جن کمروں میں لوگ کی سوئے ہوتے ہیں ان میں ان کی سانسوں کی وجہ سے اتنی گرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ تنور ہے کمرہ نہیں۔عام حالتوں میں ان باتوں کی برداشت انسان کیسے کرسکتا ہے۔پھر جو کھانا ملتا ہے وہ بھی ظاہر ہے میں منتظمین کی برائی نہیں کرتا۔وہ تو رات دن ایک کر کے انتظام کرتے ہیں اور ان کی حالت دیکھ کر ان پر رشک آتا ہے کہ وہ یہ ہفتہ کس طرح تکلیف سے گزارتے ہیں۔رات دن کام میں لگے رہتے ہیں اور پتہ نہیں کس وقت سوتے ہیں۔یہ سب تکلیف وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے برداشت کرتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی کوشش وسعی ، محنت ، جفاکشی اور نیک نیتی کے باوجود جو کھانا تیار ہوتا ہے وہ ایسا ہوتا ہے کہ عام طور پر گھر میں لوگ اس کے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔پھر اتنی بڑی جماعت جو ہر قوم اور ہری ملک وصو بہ کے لوگوں پر مشتمل ہو اسے خوش کرنا کتنا مشکل ہے۔بعض ایسے علاقوں کے ہوتے ہیں جو گائے کے گوشت کے بغیر کھانا کھاتے ہی نہیں اور ان کے ہاں اگر کوئی بکرے کا گوشت لینے جا رہا ہو تو بڑی فکر مندی کے ساتھ اس سے دریافت کرتے ہیں کہ کیوں خیر ہے گھر میں کوئی بیمار تو نہیں جو آپ بکرے کا گوشت خرید نے جارہے ہیں لیکن بعض علاقوں میں گائے کے گوشت سے اتنا شدید پر ہیز کیا جاتا ہے جتنا سور کے گوشت سے۔خاص کر ہندو ریاستوں کے باشندے تو اس سے بہت پر ہیز کرتے ہیں اور اگر ان کو شک بھی ہو جائے کہ گائے کا گوشت کھایا گیا ہے تو خیالی طور پر ہی اتنا نفخ ہو جاتا ہے کہ سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اس کے عادی نہیں ہوتے ان کو یہ وہم ہوتا ہے کہ گائے کا گوشت نفاخ ہے ادھر کھایا اور ادھر پیٹ پھولنا شروع ہوا۔