خطبات محمود (جلد 19) — Page 907
خطبات محمود 9+2 سال ۱۹۳۸ء دیتے ہیں، نہ قربانیاں کرتے ہیں، نہ تبلیغ میں حصہ لیتے ہیں۔سال میں ایک یا دو دن یوم التبلیغ آتا ہی ہے مگر اس روز بھی انہیں اپنے گھروں اور دکانوں کو چھوڑ کر تبلیغ کے لئے باہر نکلنا موت دکھائی دیتا کی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ ہم ہجرت کر کے آئے ہیں۔لعنت ہے ایسی ہجرت پر کہ سال کے ۳۶۰ دنوں میں سے انہیں دو دن بھی تبلیغ کرنے کی توفیق نہیں ملتی اور جب بھی انہیں دین کی خدمت کے لئے بلایا جاتا ہے تو اس کے جواب میں ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔مجھے ناظر دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے ہمیشہ یہ شکایت پہنچتی ہے کہ جب بھی لوگوں کو تبلیغ کے لئے کہا جاتا ہے ایک جماعت جی پچرانے لگ جاتی ہے۔اس وقت قادیان کی احمدی آبادی سات ہزار ہے اور اگر صرف مردوں کا حساب کیا جائے تو وہ تین ہزار بنتے ہیں بلکہ میں نے ابھی چند دن ہوئے کی قادیان کی مردم شماری کرائی تو پانچ سال سے اوپر کی عمر کے۳۳ئو ذکور نکلے۔اس میں سے اگر آٹھ سو ایسے بچے فرض کر لیں جو پانچ سے اٹھارہ سال تک کی عمر کے ہیں اور انہیں اس تعداد میں کی سے نکال دیا جائے تو بھی اڑھائی ہزار عاقل بالغ مر درہ جاتے ہیں۔اگر یہ اڑھائی ہزار آدمی کی ۱۵ ، ۱۵ دن بھی سال میں تبلیغ کے لئے دیں تو قریباً ایک سو آدمی روزانہ تبلیغ پر رہ سکتے ہیں۔اب اگر سو گاؤں میں ہر وقت تبلیغ ہو رہی ہو اور ہر وقت ان گاؤں میں ہمارا ایک ایک آدمی بیٹھا انہیں تبلیغ کر رہا ہو تو ایک سال کے اندر ہی عظیم الشان تغیر پیدا ہو سکتا ہے مگر وہ جو ہجرت کر کے آئے ہیں وہ بتائیں کہ انہوں نے کیا ہجرت کی ہے اور کس چیز کا نام انہوں نے ہجرت رکھا ہوا ہے۔یہ تو شریعت کی ایک تو اصطلاح کی شدید ہتک ہے کہ کام اپنا کیا جائے اور مفاد ذاتی سوچا جائے مگر نام اس کا ہجرت رکھ لیا جائے۔آخر تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے دُنیا کے لئے ہجرت کی یا تی تجارت کے لئے ہجرت کی یا امن تلاش کرنے کے لئے ہجرت کی مگر اُس کا نام انہوں نے دین رکھ لیا ہے اور منہ سے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہم نے خدا اور اُس کے رسول کے لئے ہجرت کی ہے۔کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ ہجرت ان کو کوئی فائدہ دیتی ہے؟ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں سُرخرو ہو جائیں گے؟ یہ ہجرت تو ایسی ہی ہے جیسے میں جب طالبعلم تھا اور سکول میں پڑھا کرتا کی تھا تو میں نے ایک طالبعلم کو ایک دفعہ دیکھا کہ وہ بڑے زور شور سے ریوڑیاں کھا رہا ہے۔ریوڑیاں تو لوگ کھایا ہی کرتے ہیں مگر اُس کے کھانے کا طریق ایسا تھا جس میں شدید حرص پائی