خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 866 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 866

خطبات محمود ۸۶۶ سال ۱۹۳۸ء صاف طور پر دکھائی دیتے ہیں مگر ان سکھ صاحب کے بال چونکہ قدرتاً بہت بڑے بڑے تھے اور پھر انہوں نے مذہبی لحاظ سے ان بالوں کو کبھی تر شوایا بھی نہیں تھا اس لئے مونچھوں اور کی چہرے اور داڑھی کے بالوں سے ان کے ہونٹ بالکل چھپ گئے تھے اتفاقاً ان کے پاس سے کوئی مسلمان گزرا اور وہ کھڑا ہو کر حیرت سے ان کا منہ دیکھنے لگ گیا۔مزید ا تفاق یہ ہوا کہ اس وقت وہ سکھ صاحب کسی فکر میں خاموش بیٹھے تھے ، اب یہ دیکھ دیکھ کر حیران تھا کہ یہ کیا تماشہ بنا ہوا ہے مگر اسے کچھ سمجھ نہ آئی۔آخر قریب آ کر اس نے ان سکھ صاحب کے ہونٹوں کے قریب ہاتھ مارا یہ دیکھنے کے لئے کہ ان کے ہونٹ بھی ہیں یا نہیں۔اب ایک بھلا مانس بیٹھا ہوا ہو اور کوئی گزرنے والا اس کے منہ پر ہاتھ مارنا شروع کر دے تو اسے لازماً غصہ آئے گا۔سردار صاحب نے بھی آنکھیں کھول کر اسے سخت سست کہنا شروع کر دیا اور کہا نا معقول یہ کیا حرکت کرتا ہے وہ کہنے لگا سردار جی معاف کرو اتنا ہی دیکھنا تھا کہ آپ بولتے کس طرح ہیں۔تو بعض دفعہ کسی کی دوسرے پر اس کی حقیقت واضح کرنی پڑتی ہے اور بعض دفعہ خود کو ئی مخفی حقیقت معلوم کرنے کی تڑپ ہوتی ہے اور ان دونوں صورتوں میں بعض دفعہ ایسے امور بھی زیر بحث لانے پڑتے ہیں جن کو عام حالات میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔میرا طریق یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اس سے بچا جائے لیکن اگر کوئی شخص ہمیں اس پر مجبور کر دے یا ضرورت ہمیں یہ طریق اختیار کرنے پر مجبور کر دے تو پھر اس کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہو سکتی۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو عیسائیوں نے اس امر پر مجبور کر دیا تھا کہ آپ یسوع کے حالات بے نقاب کریں۔مگر جب کی آپ نے انہی کی کتابوں میں سے حالات بیان کرنے شروع کر دیئے تو عیسائی گھبرائے اور انہوں نے رفتہ رفتہ اس طریق کو ترک کر دیا جس طریق کو وہ پہلے بڑی شد و مد کے ساتھ استعمال ، کیا کرتے تھے۔چنانچہ پہلے تو ان کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پے در پے ایسے رسائل نکلتے تھے جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی تھی مگر اب ہندوستان میں عام طو پر عیسائی ایسا نہیں کرتے یورپ میں ابھی ویلز اور فشر جیسے عیسائی مصنفین رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بعض اس قسم کے توہین آمیز کلمات لکھ دیتے ہیں لیکن اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ابھی ان کو اس رنگ میں جواب نہیں دیا گیا جس رنگ میں جواب دینا ایسے۔