خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 809 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 809

خطبات محمود 1 +9 سال ۱۹۳۸ء یہ سکھوں کے ایک بہت بڑے مذہبی لیڈر کے خیالات تھے مگر میں نے اس خط کو شائع نہیں کیا کی تاکہ سکھوں میں ان کی پوزیشن کمزور نہ ہو جائے۔بہر حال ان خطوط میں سے صرف ایک خط ہی ایسا تھا جس کے جواب کا مجھے مزید انتظار کرنا چاہئے تھا چنانچہ میں نے ایک لمبے عرصے تک انتظار بھی کیا مگر ان صاحب نے سمجھوتہ کی کوئی کوشش نہ کی۔غالباً انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب کی معاملہ دب گیا ہو گا کیونکہ شملہ سے نیچے اتر کر انہوں نے پھر بھی خبر نہ دی کہ میں پنجاب آ گیا ہوں کی اور اس جھگڑے کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں۔اس کے بعد پھر میرے پاس ہندوؤں کے وفود آئے مگر میں نے انہیں یہی کہا کہ اگر کوئی فیصلہ کرنا ہے تو اکٹھا کر لو۔یعنی یہ نہ ہو کہ وہ صرف قادیان کے متعلق ہو بلکہ وہ فیصلہ ہر جگہ کے متعلق ہونا چاہیئے اگر یہ فیصلہ ہو کہ مذبح نہیں کھلنا چاہئے تو ہم اپنا بنا بنا یا منبج بند کرا دیں گے اور اگر بعض شرائط کے ساتھ مذبح کے کھلنے کا فیصلہ ہو تو ان شرائط کا لحاظ رکھیں گے۔مگر جس رنگ میں آپ لوگوں کی طرف سے کوشش کی جاتی ہے یہ سیج نہیں اور میں اس طرح ماننے کے لئے تیار نہیں۔یہی حال لین دین کے معاملات کا بھی ہے اور میں سمجھتا ہوں کی یہ پابندی ہندوؤں پر اتنی گراں نہیں گزرتی جتنی مجھ پر گزرتی ہے۔مجھ سے کئی ہندو لیڈروں نے کی جب اس کے متعلق گفتگو کی ہے تو میں نے انہیں کہا ہے کہ آپ قادیان آئیں اور قومیت کے خیال کو نظر انداز کرتے ہوئے دیانت داری اور انصاف کے ساتھ تمام حالات کو دیکھ کر فیصلہ کی کریں۔پھر آپ پر خود بخود روشن ہو جائے گا کہ ہماری زیادتی ہے یا نہیں مگر کسی نے یہ جرات نہیں کی کہ وہ قادیان آئے اور بچشم خود حالات دیکھ کر اور تمام واقعات سن کر رائے قائم کرے۔اور اگر کسی نے حالات سنے ہیں تو اس نے اقرار کیا ہے کہ ان حالات میں آپ نے جو پابندی عائد کی ہے اس میں آپ حق بجانب ہیں۔تو یہاں کے ہندوؤں اور سکھوں کی جو مثال ہے وہ بالکل اور رنگ رکھتی ہے۔ورنہ حقیقت یہی ہے کہ احمدیت کی ترقی سے دوسری قوموں کا تنزل نہیں بلکہ ان کی ترقی ہے اور احمدیت کی ترقی میں اسلام کی ترقی ہے اور اسلام کی ترقی میں کی دنیا کی ترقی ہے۔تیرہ سو سال کے واقعات اس پر شاہد ہیں کہ اسلام نے جب بھی ترقی کی دوسری اقوام کو بھی اس نے ترقی کی شاہراہ پر لا ڈالا اور کسی قوم کو اس نے نہیں گرایا۔آج دنیا پر نگاہ دوڑا کر دیکھ لو یہود کا کیسا عبرت ناک حال ہے مگر تیرہ سو سال تک مسلمانوں نے اس قوم کو کی