خطبات محمود (جلد 19) — Page 799
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء تھی کہ اس امر کی نگرانی رکھی جائے مگر اس ہیڈ کانسٹیبل نے شراب پی ہوئی تھی جس کے نشہ میں اس نے بات کہہ دی اور بجائے مخفی رکھنے کے اس نے خود احمدیوں سے اس کا ذکر کر دیا ورنہ ہمیں تو مخفی حکم ملا تھا اور اب بہتر ہے کہ آپ اس معاملہ کو دبا دیں اور زیادہ شور نہ کریں کیونکہ ہماری بدنامی ہوتی ہے اور اگر یہ راز کھلا تو اس ہیڈ کانسٹیبل کی شامت آجائے گی۔اب یہ ایک ایسا واقعہ تھا کہ جس کا گورنمنٹ انکار کر ہی نہیں سکتی تھی اور انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ کوئی غلط فہمی اس بارہ میں ہو گئی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ غلط فہمی ہو کس طرح گئی۔اگر گورنمنٹ یا گورنمنٹ کے کی کسی ذمہ دار افسر کا کوئی آرڈر نہیں تھا تو یہ کس طرح ممکن ہو گیا کہ راولپنڈی کے ایک ہیڈ کانسٹیبل نے ایک دور دراز کے گاؤں میں جا کر احمدیوں کے نام لکھنے شروع کر دیئے اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ بغیر پولیس میں اطلاع دیئے تم قادیان نہیں جاسکتے مگر خیر ہم کو ان بحثوں سے غرض نہیں۔حکومت پنجاب نے علی الاعلان تسلیم کیا کہ وہ کوئی ایسا الزام جماعت احمدیہ پر نہیں لگاتی اور بالا گورنمنٹ نے بھی یقین دلایا کہ جماعت احمدیہ کی وفاداری اس کے نزدیک کی مسلم ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حکومت کے مقابلہ میں بھی ہمیں فتح دی گو مخالفت کا سلسلہ ابھی تک اندرونی طور پر افسروں میں جاری ہے کیونکہ حکومت میں یہ مرض ہے کہ اس کا کی ایک معمولی سے معمولی افسر بھی کوئی بات کہہ دے تو وہ اسے سچ تسلیم کرلے گی اور یہ گورنمنٹ کی کے تنزل اور بعض دفعہ اس کے لئے ندامت کے موجبات میں سے ایک بہت بڑا موجب ہے۔ممکن ہے اب جبکہ گورنمنٹ میں ہندوستانی عنصر زیادہ ہو رہا ہے یہ مرض کم ہونا شروع ہو جائے مگر ابھی تک پرانی روایات چلتی چلی جاتی ہیں اور حالت یہ ہے کہ چاہے کوئی افسر کتنا جھوٹا، کتنا فریبی اور کتنا ہی مکار کیوں نہ ہو جو بات بھی وہ کہہ دے سارے اس کے پیچھے چل پڑیں گے اور کہیں گے کہ یہ بات بالکل سچی ہے کیونکہ فلاں افسر نے یہ بات کہی ہے اور ابھی تک ان کی کی طبیعت پر یہ اثر چلتا چلا جاتا ہے خصوصا لوکل افسر تو اس مرض میں بہت حد تک مبتلا ہیں اور وہ حقیقت کو سمجھ جانے کے باوجو دسچائی اور دیانت کا طریق بعض دفعہ اس لئے اختیار نہیں کرتے کہ اگر ہم نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا تو گورنمنٹ کے پر سٹیج کو نقصان پہنچے گا۔بہر حال ان دنوں میں اور آج کے ایام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پہلے وہ دھڑلے سے ہماری جماعت کو