خطبات محمود (جلد 19) — Page 667
خطبات محمود ۶۶۷ سال ۱۹۳۸ حالات ایسا رنگ پکڑ گئے تھے کہ تھوڑی دیر کے لئے مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی تھی لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم اس واقعہ پر زور دینے لگ جائیں۔استثنائی حالات اور ہوتے ہیں۔اور قاعدہ کلیہ اور ہوتا ہے۔اسی طرح عام قاعدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کی تائید کرتا اور انہیں دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھتا ہے لیکن استثنائی طور پر بعض انبیاء قتل بھی ہو جاتے ہیں۔پس چونکہ انبیاء کا قتل نہایت ہی شاذ ہوتا ہے اور دشمن کو اس طرح بہت بڑی خوشی حاصل ہوتی ہے اس لئے ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ شاذ کو شاذ ہی رہنے دیں اور اسے وسیع نہ کریں۔ایک دوست نے لکھا ہے يَقْتُلُونَ النَّبِيِّنَ ۲۸ کہ وہ نبیوں سے لڑتے ہیں مگر آج یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ وہ نبیوں کو قتل کرتے تھے۔اس کا جواب یہی ہے کہ جس طرح پہلے یہ معنے پڑھائے گئے تھے اسی طرح اب بھی یہی پڑھائے جاتے ہیں اور آئندہ بھی یہی پڑھائے جائیں گے مگر جب حضرت یحیی علیہ السلام کا ذکر آئے گا۔تو پہلے بھی یہی کہتے تھے اور اب بھی یہی کہیں گے کہ وہ شہید ہوئے ہیں مگر بایں ہمہ ہم اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے متعلق کوئی ایسی بات گوارا نہیں کر سکتے جس سے ان کی تو ہین ہو یا جس میں ان کی سبکی ہو۔چونکہ قتل میں انبیاء کی ایک طرح کی تی سبکی ہوتی ہے اور دشمن کو خوشی کا سامان ہاتھ آتا ہے اس لئے ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ جہاں نبیوں کے عام ذکر کے ساتھ قتل کا لفظ آئے وہاں اس کے معنے ارادہ قتل یا کوشش قتل یا لڑائی جھگڑے کے کریں تا کہ شاگرد پر یہ اثر نہ ہو کہ شاید نبیوں کا قتل کوئی معمولی بات ہے۔مگر مومن کا یہ بھی کام ہے کہ جہاں خدا اسے کہے کہ فلاں نبی قتل ہوا ہے وہاں اس حقیقت کا بھی اظہار کر دے۔پس میں نے ضروری سمجھا کہ اس حقیقت کو واضح طور پر احباب کے سامنے رکھ دوں میں نے اس ضمن میں بہت سی شہادتیں بیان کی ہیں۔صحابہ میں سے ماسٹر عبدالرحمن صاحب۔میر مہدی حسین صاحب۔حافظ محمد ابراہیم صاحب مفتی محمد صادق صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب کی شہادتیں بیان کی ہیں اپنی شہادت بھی بیان کی ہے۔اور پھر بتایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں بھی یہی مسئلہ بیان ہوا ہے حتی کہ حقیقتہ الوحی میں بھی جیسا کہ ایک دوست نے لکھا ہے کہ یہی بات بیان کی گئی ہے۔پھر تاریخ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے احادیث میں