خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 660 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 660

خطبات محمود ۶۶۰ سال ۱۹۳۸ جب انہوں نے کہا تھا کہ حضرت بیٹی علیہ السلام بھی قتل ہوئے ہیں تو چاہیے تھا کہ قرآن کریم اس کا بھی رد کرتا۔مگر قرآن کریم بیٹی علیہ السلام کی برکت نہیں کرتا نہ یہود اس پر لعنت کا الزام لگاتے ہیں نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی تردید کرتے ہیں۔مگر مسیح علیہ السلام کے مصلوب ہونے کی قرآن بار بار تردید کرتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی تردید کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا حضرت عیسی علیہ السلام سے خدا تعالیٰ کی کوئی خاص رشتہ داری ہے۔کہ جب ان پر کوئی الزام لگتا ہے اس وقت تو وہ تردید کرنے لگ جاتا ہے۔لیکن اگر اسی قسم کا الزام بیٹی پر لگے۔تو وہ تردید کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق تو وہ بار بار کہتا ہے کہ یہود بالکل جھوٹ کہتے ہیں۔عیسی ہرگز صلیب پر نہیں مرا۔بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ۲۳ خدا نے اسے عزت دی۔اسی طرح اِنّى مُتَوَفِّيكَ ۲۴ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي ۲۵ اور دوسری آیتوں میں خدا اس کی تردید کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ حضرت مسیح کی صلیب پر موت نہیں ہوئی۔مگر اسی قسم کی موت یعنی جھوٹوں والی موت کا الزام یہود حضرت بیچی پر بھی لگاتے ہیں اور وہ کوئی بھی تردید نہیں کرتا۔پھر اگر یہود کا واقعہ میں یہ عقیدہ ہوتا کہ اگر نبوت کا دعوی کرنے والا مقتول ہو جائے تو وہ کی مفتری ہوتا ہے تو انہیں چاہیے تھا وہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو جھوٹا نبی سمجھتے حالانکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہود کی اکثریت انہیں بزرگ تسلیم کرتی ہے اور ان کا ایک حصہ انہیں نبی مانتا ہے اگر ان کی کا یہ عقیدہ ہوتا کہ جو نبی بھی قتل ہو جائے وہ جھوٹا ہوتا ہے تو وہ حضرت یحییٰ کو مقتول ماننے کے با وجود بزرگ کس طرح تسلیم کرتے کیا کوئی جھوٹا شخص بھی بزرگ ہوا کرتا ہے۔مگر ایک واقعہ ہے کہ آج تک یہودی انہیں بزرگ مانتے چلے آتے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی مسیح کے صلیب کے واقعہ کی تو بار بار تردید کرتے ہیں۔مگر قتل یی کی کوئی تردید نہیں کرتے۔اور اگر ذکر کرتے ہیں تو اس طرح کہ بیچی قتل ہوا۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کی صداقت کے لئے اس امر کی ہرگز کوئی ضرورت نہ تھی کہ بار بار اس امر پر زور دیا جاتا۔کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر لٹک کر فوت نہیں ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے دعوی کی صداقت کے لئے صرف اتنی بات