خطبات محمود (جلد 19) — Page 654
خطبات محمود ۶۵۴ سال ۱۹۳۸ء اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے اگر وہ بچانا چاہے تو کون مارسکتا ہے اور نبیوں کا حال تو بالکل بالا ہے۔جب عام مومن حتی کہ ایک کا فربھی بغیر اذنِ الہی کے نہیں مرسکتا۔تو نبی کس طرح بغیر اذنِ الہی کے مر سکتے ہیں۔پس اس حوالہ سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی یا غیر نبی بغیر اذنِ الہی کے نہیں کی مر سکتے۔اس لئے تم لوگ مجھے نہیں مار سکتے۔کیونکہ میرے متعلق اللہ تعالیٰ کا اذن نہیں ہے کہ مجھے کوئی مار سکے۔اور اس حوالہ کا مضمون زیر بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تیسرا حوالہ تذکرۃ الشہادتین سے یہ پیش کیا گیا ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ لَا يَكُونُ لَهُمْ خَيْر الْعَاقِبَةِ وَيُعَادِيهِمُ الله فَيَقْتَلُوْنَ تَقْتِيلًا - ويطوى أَمْرَهُمْ بِاَسْرَ۔حِيْنِ فَلَا تَسْمَعُ ذِكْرَهُمْ إِلَّا قَلِيْلًا وَأَمَّا الَّذِيْنَ صَدَقُوا وَجَاؤُوا مِنْ رَبَّهِمْ فَمَنْ ذَالَّذِي يُقْتُلُهُمْ اَوْ يَجْعَلَهُمْ ذَلِيْلًا - إِنَّ رَبَّهُمْ مَعَهُمْ فِي صَبَاحِهِمْ وَضَحَاهِمُ وَهَجِيْرِهِمْ وَإِذَا دَخَلُوا أَصِيلًا۔١٣ کہ جولوگ افتراء علی اللہ کرتے ہوئے مدعی نبوت بنتے ہیں۔ان کا انجام ہر گز اچھا نہیں ہوتا۔بلکہ خدا ان کا دشمن ہو جاتا ہے۔اور وہ بُری طرح قتل کئے جاتے ہیں ان کی صف جلد لپیٹ دی جاتی ہے۔تجھے تھوڑے دنوں تک ہی ان کا نام سنائی دے گا۔ہاں جو لوگ اپنے دعوی نبوت میں بچے ہوتے ہیں۔اور اپنے رب کی طرف سے ہوتے ہیں۔کون ہے جو ان کو قتل کر سکے یا ان کو ذلیل ورسوا کر سکے۔ان کا خدا ہر وقت اور ہر گھڑی ان کے ساتھ ہوتا ہے۔اس سے بھی یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے۔کہ اس سے ثابت ہوتا ہے جو شخص سچا نبی ہوا سے کوئی قتل نہیں کرسکتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ صریح طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اور مقامات پر یہ فرما دیا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی الہامی طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے۔پھر تاریخ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے۔پھر حضرت یحیی علیہ السلام کی خود اپنی قوم اور دوسری اقوام یعنی رومیوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کا جو آر کو نبی نہیں مانتے صرف بزرگ مانتے ہیں یہی عقیدہ ہے کہ حضرت یحیی علیہ السلام شہید ہوئے۔