خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 65

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ ނ سخت ناپسندیدہ اور فتنے پیدا کرنے والا ہے۔خواہ اس کے پاس ایک ہی جوڑا ہو یا دو ہوں۔پس یہ ہدایت بھی کوئی وقتی ہدایت نہیں بلکہ مستقل ہدایت ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے انسانوں میں سے تفرقہ دور ہوتا ہے۔عورتوں میں خصوصاً اعلیٰ لباس کی بہت پابندی ہوتی ہے اور اس میں ان کی طرف بڑے بڑے اسراف ہو جاتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض گھر عورتوں کے لباس اور زیور کی وجہ سے ہی برباد ہو گئے ہیں۔انگریز اقتصادی لحاظ سے بہت بڑی محتاط قوم ہے مگر ان میں بھی کی عورتوں کے لباسوں کے اخراجات کی وجہ سے بڑے بڑے امراء تباہ ہو جاتے ہیں۔عورت بازار میں جاتی اور مختلف فیشنوں کے جنون میں ماری جاتی ہے۔میں نے ایک دفعہ ایک ولائتی اخبار میں لطیفہ پڑھا کہ فرانس میں جہاں فیشن کا سب سے زیادہ خیال رکھا جاتا ہے ایک عورت جو فیشن میں خاص طور پر مشہور تھی ایک دکان سے ایک ٹوپی خرید کر نکلی۔اتفاق سے راستہ میں اُسے ایک فیشن کی ملکہ نظر آگئی۔یورپ کے ہر ملک میں چار پانچ ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو فیشن کی ملکہ کہلاتی ہیں یعنی جو لباس وہ پہنیں وہی فیشن سمجھا جاتا ہے۔ان کے لباس کے خلاف اگر کوئی عورت لباس پہنے تو اس کا لباس فیشن کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔جب اس نے اس فیشن کی ملکہ کو دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ اس نے اور قسم کی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔یہ دیکھ کر اس نے وہ نئی ٹوپی جو اس نے ابھی خریدی تھی سر سے اُتار کر اپنی بغل کے نیچے دبالی تا کہ کوئی اُسے اس ٹوپی کے ساتھ نہ دیکھ لے۔یہ فیشن پرستی جنون بھی ہے اور قومی اتحاد کونی تباہ کرنے والی بھی۔ہمارے ملک میں بھی جو مغربی لباس پہننے والوں کی نقل کرتے ہیں انہیں دیکھ کر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ آدمی ہیں بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مشینیں ہیں جن پر کپڑے لیٹے ہوئے ہیں۔ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے انہیں یہی خیال رہتا ہے کہ کپڑے کو شکن نہ پڑ جائے ، اس پر داغ نہ لگ جائے ، اس میں سلوٹ نہ پڑ جائے۔بھلا ایسے دماغ کو خدا کے ذکر کیلئے کہاں کی فرصت مل سکتی ہے۔دماغ نے تو آخر ایک ہی کام کرنا ہے۔جسے اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے یہی خیال رہتا ہو کہ پتلون کو شکن نہ پڑ جائے اس نے بھلا اور کیا کام کرنا ہے۔اس کے دماغ کا