خطبات محمود (جلد 19) — Page 574
خطبات محمود ۵۷۴ سال ۱۹۳۸ء کہا جاتا ہے۔دوسری زندگی موت سے شروع ہوتی اور قیامت تک قائم رہتی ہے۔اس زندگی کو کی برزخی زندگی کہا جاتا ہے اور اسی کے متعلق حدیثوں میں خبر دی گئی ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہوتی جاتا ہے تو اگر وہ جنتی ہوتا ہے تو جنت کی طرف سے اس کے لئے ایک کھڑ کی کھول دی جاتی ہے اور اگر دوزخی ہوتا ہے تو دوزخ کی طرف سے اس کے لئے ایک کھڑ کی کھول دی جاتی ہے۔گویا مرتے ہی انسان کو آرام یا عذاب ملنا شروع ہو جاتا ہے۔اگر وہ جنتی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مختلف قسم کی رحمتیں اور فضل اس پر نازل ہونے لگ جاتے ہیں اور اگر دوزخی ہوتا ہے تو مختلف قسم کے عذاب اس پر نازل ہونے لگ جاتے ہیں۔مگر اس کے بعد ایک تیسرا زمانہ ہے جسے قرآن کریم نے یوم البعث قرار دیا ہے اور جس دن کامل طور پر جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل کر دیئے جائیں گے یہ تین ابتدائی نقطے ہیں انسانی زندگی کے۔پیدائش ابتدائی نقطہ ہے حیاة الدنیا کی کا۔موت ابتدائی نقطہ ہے حیات برزخی کا اور یوم البعث ابتدائی نقطہ ہے اُخروی حیاۃ کا۔یہ تین ابتدائی نقطے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یحیی کے تینوں نقطہ ہائے حیات میں سلامتی ہی سلامتی ہے۔اس کی پیدائش پر بھی ہماری طرف سے سلامتی نازل ہوگی اور وہ زندگی بھر اس سے متمتع ہوتا رہے گا۔پھر جب اس نے وفات پائی تو پھر بھی اس پر سلامتی نازل ہو گی اور وہ کی عالم برزخ میں بھی سلامتی سے حصہ پائے گا اور اس کے بعد جب یوم البعث آئے گا تو اس دن پھر اس پر سلامتی نازل ہوگی اور وہ اخروی حیاۃ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت رہے گا۔یہ تین ابتدائی مرتبے انسانی زندگی کے ہیں جو اس آیت میں بیان کئے گئے ہیں۔قتل کا یہاں ذکر ہی کہاں ہے۔اگر کہیں قتل کی نفی ہو سکتی ہے تو وہ وہ مقام ہے جہاں حضرت عیسی علیہ السلام نے اسی قسم کے الفاظ اپنے متعلق استعمال کئے ہیں اور فرمایا ہے وَالسَّلَمُ عَلَي يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ آمُوْتُ وَيَوْمَ ابْعَثُ حَيًّا لے مگر وہاں بھی یہ معنے ہم اسی لئے لیتے ہیں کہ یہود ان کے متعلق یہ کی کہا کرتے تھے کہ وہ لعنتی موت مرے ہیں اور اس کی دلیل یہ دیا کرتے تھے کہ تو رات میں لکھا ہے جو صلیب پر لٹک کر وفات پاتا ہے وہ لعنتی ہوتا ہے۔پس چونکہ یہود ان کے متعلق یہ کہا کرتے تھے کہ وہ لعنت کی موت مرے ہیں اور عالم برزخ میں عذاب دیئے جارہے ہیں اس لئے ہم کہتے ہیں اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان یہود کی تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ صلیب پر