خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 517

خطبات محمود ۵۱۷ سال ۱۹۳۸ء حالانکہ یہ دماغ میں گھوں گھوں ہو رہی ہوتی ہے۔تو یہ سب اعضاء ایسی فہرست ہائے مضامین ہیں جو اندر کا حال بتاتی رہتی ہیں۔طب نے ابھی تک پوری ترقی نہیں کی ورنہ حواس خمسہ انسان کے اندر کی سب چیزوں کو دکھا دیتے۔بخار کیا ہے جس طرح باہر کی چیزوں کو چھو کر ہم معلوم کرتے ہیں کہ یہ نرم یا سخت ہے، اسی طرح بخار یہ بتاتا ہے کہ اندر فلاں قسم کی خرابی ہوگئی ہے۔کبھی ٹائیفائڈ اور کبھی ملیر یا کبھی کچھ، کبھی کچھ تو مخلوق کے اندرونی حواس بہت اہمیت رکھتے ہیں اس لئے میں جماعت کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اندرونی حواس بھی کچھ کم ذمہ داری والے نہیں کی ہیں اور ان کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔ہم بیرونی حواس سے تعلق رکھنے والی باتوں پر بہت زور دیتے ہیں۔بیشک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم دوسروں سے کہیں نماز پڑھو مگر اس کے ساتھ ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ دیکھیں کہ ہمارا نفس بھی نماز پڑھتا ہے یا نہیں۔اور دراصل مخلوق کا حصہ تو یہی ہے۔ہم خالقیت کی جو چادر اوڑھتے ہیں وہ تو مانگی ہوئی ہے۔جب ہم دوسرے سے کہتے کی ہیں کہ نماز پڑھو تو خدا تعالیٰ کا کام کرتے ہیں اور ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ بندہ ہونے کے لحاظ سے جو کام ہمارے ذمہ ہے وہ بھی ہوتا ہے یا نہیں۔جو یہ ہے کہ دیکھیں ہمارا نفس بھی نماز کی پڑھتا ہے یا نہیں۔ہم لوگوں سے کہتے ہیں چندہ دو یا خود دیتے ہیں تو یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔کہ وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ۔اس لئے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہم اپنے نفس کو بھی چندہ دیتے ہیں یا نہیں۔ظاہر ہے کہ نفس کو ہم روپیہ تو نہیں دے سکتے بیرونی دنیا کا چندہ روپیہ ہے لیکن اندرونی دنیا کا یہ نہیں ہو سکتا۔اس کا خزانہ دل و دماغ میں ہے اور اس لئے نفس کا چندہ صحیح علم اور صحیح فکر ہے۔جس طرح بیرونی دنیا کی تربیت کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اندرونی دنیا کے لئے صحیح فکر کی ضرورت ہے۔منافقت بالعموم صحیح فکر نہ ہونے کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کسی سے دوستی ہوئی اور اس کی نیکی کو دیکھ کر اس سے تعلق پیدا کر لیا اور اس طرح اپنے لئے ایک رستہ مقرر کر لیا جاتا ہے۔اس کے بعد حالات میں خواہ کتنی تبدیلی کیوں نہ پیدا ہو جائے یہ اس رستہ پر ہی چلیں گے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ ہم کسی شخص کو پکڑنے کے لئے دوڑتے ہیں۔وہ شمال کی طرف بھاگ رہا ہے اور اس لئے اس کے پیچھے ہم بھی شمال کی طرف بھاگیں گے لیکن جب وہ اپنا رخ بدل کر