خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 51

خطبات محمود ۵۱ سال ۱۹۳۸ء آخر اس نے جیب سے کاغذ نکالا اور کہا کہ آپ جو مرزا صاحب کو مانتے ہیں تو اسی لئے نا کہ وہ کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہیں لیکن اگر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی بات کہیں مثلاً یہ کہیں کہ وہ نبی ہیں تو پھر تو آپ ان کو نہیں مانیں گے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل نے فرمایا کہ نہیں میں نے مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مانا ہے اگر وہ کوئی ایسی بات کہیں گے جو میرے پہلے عقیدہ کے خلاف ہے تو میں یہ سمجھوں گا کہ میرا پہلا عقیدہ غلط تھا اور جو بات مرزا صاحب کہتے ہیں وہ درست ہے۔جب میں نے یہ مان لیا کہ مرزا صاحب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو پھر ان کا حق ہے کہ وہ اپنے عقائد مجھ سے منوائیں۔میرا حق نہیں کہ میں ان کی کو اپنے عقائد کے تابع کروں۔اس پر وہ شخص مایوس ہوکر اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا کہ بس جی چلو مولوی صاحب بہت آگے نکل چکے ہیں اور ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔حق یہی ہے کہ جب یہ مان لیا جائے کہ کوئی شخص واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو پھر وہ جو بھی کہے اُسے ماننا پڑے گا۔اور جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی بات کے کہنے کا حق نہ ہو اس کی کی چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی موازنہ کیا جائے گا۔اصل سوال یہی ہے کہ جو شخص کھڑا ہے اُسے اللہ تعالیٰ نے کیا پوزیشن دی ہے۔اگر تو یہ پوزیشن ہے کہ اس کی ہر بات مانی جائے تو پھر ہر بات ماننی پڑے گی۔اگر یہ ہے کہ ایک خاص دائرہ میں اس کی بات ماننی چاہئے تو پھر اُس دائرہ کی میں اُس کی بات ماننی پڑے گی اور اگر یہ ہے کہ اُس کی کسی بات کا ماننا بھی ہمارے لئے ضروری نہیں تو پھر اس کی جس بات کو عقلِ سلیم تسلیم کرے گی وہ ہم مانیں گے باقی کو رڈ کردیں گے۔غرض اب تعلیم یافتہ طبقہ غیر احمدیوں کا یہ سمجھتا جارہا ہے کہ نبوت کا مسئلہ اپنی ذات میں اہم مسئلہ نہیں اور وہ اس میں اپنی کمزوری کو تسلیم کرنے لگے ہیں اور ان کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ہم جو عقائد پیش کرتے ہیں انہیں خاص اہمیت حاصل ہے اور اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے جواب کیلئے انہیں اب اپنے پہلے مقام کو بدلنا چاہئے۔مگر عمل کے میدان میں ابھی یہ بات ہمیں حاصل کی نہیں ہو سکی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ عقائد میں ہمارا ہر شخص خواہ وہ مضبوط ہو یا کمزور، جاہل ہو یا عالم ، چھوٹا ہو یا بڑا، بوڑھا ہو یا جوان یا بچہ، مرد ہو یا عورت سب ایک ہی بات کہتے ہیں۔مگر عملی باتوں میں آکر دوسرے لوگ دیکھتے ہیں کہ سب ایک جیسے نہیں ہیں۔لڑکیوں کو ورثہ میں حصہ