خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 503

خطبات محمود ۵۰۳ سال ۱۹۳۸ء اور ہر روز اس کا قدم عزت اور شرف کے میدان میں آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا ہے۔اس جن باتوں میں ہمیں کامیابی ہو رہی ہے کیا وہ باتیں ہم نے منافقوں سے پوچھ کر کی تھیں کہ نقصان کے موقع پر وہ اپنی ہمدردی جتانے کے لئے آگے آجاتا ہے۔مگر اس کی فطرت میں یہ بات داخل ہوتی ہے کہ جب کوئی نقصان ہو تو پھر اپنی خیر خواہی جتانے لگ جاتا ہے اور جب کامیابیاں ہی کامیابیاں حاصل ہوں تو دل ہی دل میں جل بھن کر خاموش رہتا ہے۔اسی طرح کی جن جن امور میں اس کی باتیں غلط ثابت ہوتیں اور جن قربانیوں کے متعلق اس کی رائے بالکل جی بیہودہ ثابت ہوتی ہے، انہیں تو کھا جاتا ہے مگر جب کوئی ایک آدھ بات درست نکلے تو اسے لے بیٹھتا ہے اور کہتا ہے میں نے نہیں کہا تھا کہ اس سے نقصان ہوگا۔تو چوتھی قسم کا منافق وہ ہے جو پورا مؤمن ہوتا ہے مگر منافق اُس کے دوست ہوتے ہیں اور ان کی غلط دوستی اختیار کر لینے کی وجہ سے سلسلہ کو اس کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے اور اُسے اپنے کی منافق دوست کی غلطی محسوس تک نہیں ہوتی اور وہ با وجود مؤمن ہونے کے مؤمنوں پر عیب لگاتا ہے۔مؤمن خدا کی بات کہتا ہے تو وہ جھوٹ بول اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ دیکھو کسی پر بدظنی نہیں کرنی چاہئے۔اس کے مقابلہ میں منافق اعتراض کرتا ہے تو وہ بیٹھا ہوا کہہ رہا ہوتا ہے سُبْحَانَ الله کیسا مخلص ہے سلسلہ کا اِس کے اندر کتنا درد ہے۔تو دوستی کی وجہ سے منافق کی بُری بات بھی اُسے اچھی لگتی ہے اور مؤمن کی اچھی بات بھی اُسے بُری لگتی ہے۔وہ ہوتا مؤمن ہے مگر نام اس کا منافقوں میں ہوتا ہے اور لا تركنوا إلى الذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَتَكُمُ النَّارُه کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے کبھی کبھی وہ اس کی سزا بھی پالیتا ہے۔اگر آپ لوگ میری اس تشریح کے بعد سمجھ لیں کہ منافقین کے چار گروہ ہوتے ہیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ بہت حد تک آپ غلط فہمیوں سے بچ جائیں۔اب کئی دوستوں کو محض اس وجہ سے دھوکا لگ جاتا ہے کہ جب انہیں معلوم ہوتا ہے فلاں شخص منافق ہے تو وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آیا وہ وفات مسیح کا قائل ہے یا نہیں ، یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی مانتا ہے یا نہیں، یا خلافت کا قائل ہے یا نہیں اور جب وہ دیکھیں کہ وہ وفات مسیح کا بھی قائل ہے، وہ صداقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی تسلیم کرتا ہے،