خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 462

خطبات محمود ۴۶۲ سال ۱۹۳۸ء جو سفارشیں کرنے جاتے ہیں آخر اسی برتے پر جاتے ہیں کہ ہم جماعت میں بڑے سمجھے جاتے ہیں ج یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کسی تعلق کی وجہ سے ہمیں رسوخ حاصل ہے۔اور یا درکھو جب کسی جماعت میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ ہم بڑے آدمی ہیں ہماری بات سُنی جانی چاہئے تو یہ اس کی تباہی کا پہلا قدم ہوتا ہے۔نظام سلسلہ کا جہاں تک تعلق ہے، کوئی بڑا نہیں اور کوئی چھوٹا نہیں۔دارالصحت کے آدمی سفارشیں لے کر کیوں نہیں آتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کی غریب ہیں ہماری بات کون سنے گا اور جو آئے وہ یہی سمجھ کر آئے کہ ہمیں ایک عزت اور رسوخ حاصل ہے اور ہم بڑے آدمی ہیں لیکن میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ نظامِ سلسلہ میں ان کی بھی اتنی عزت ہے جتنی دارالصحت کے رہنے والوں کی اور جو اس سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے ، وہ کی آج بھی گیا اور کل بھی۔اچھی طرح سن لو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولا د اور پوتے یا داما دسب کی جہاں تک نظام کا تعلق ہے ان کی ویسی ہی حیثیت ہے جیسی ایک ادنیٰ خادم کی اور جو اس سے زیادہ سمجھتا ہے اسے ارتداد، کفر اور یا پھر خدا تعالیٰ کے عذاب کے لئے تیار ہونا چاہئے۔اور جو ناظروں میں سے سفارش سنتا ہے وہ بھی تیار ہو جائے کہ یا تو اسے ٹھوکر لگے گی اور یا پھر وہ عذاب میں مبتلا ہو گا۔ناظر یا جسے کوئی اور عہدہ ملے اس کے کان اس معاملہ میں بہرے ہونے چاہئیں اور کسی کی بات کی اسے کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے بلکہ جب کوئی اس کے پاس ایسی سفارش لے کر آئے اسے کہنا چاہئے کہ نکل جاؤ یہاں سے۔گو مجھے اس بات کے کہنے سے شرم آتی ہے اور حجاب محسوس ہوتا ہے مگر کہنے سے رہ نہیں سکتا کہ شروع ایامِ خلافت میں ایک دو دفعہ ایسا ہوا۔بعض عورتیں حضرت اماں جان کے پاس پہنچیں اور ان سے سفارش کرانے کی کوشش کی۔وہ میری والدہ ہیں۔اماں جان ہیں اور ان کا پایہ سلسلہ میں بہت بلند ہے مگر میں نے ان کی سفارش کو بھی کبھی برداشت نہیں کیا اور صاف کہہ دیا ہے کہ میں اسے سننے کے لئے تیار نہیں ہوں اور ان سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے۔جب سلسلہ کے نظام میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ سفارش کریں تو پھر کسی اور کی سفارش کو کس طرح برداشت کیا جا سکتا ہے۔سفارش کرنے کی والے امور اور ہوتے ہیں۔مثلاً میں نے کسی سے روپیہ لینا ہے اور تقاضا کر رہا ہوں۔کسی کو علم ہے کہ اس کی مالی حالت اچھی نہیں وہ سفارش کر سکتا ہے کہ اس کی مالی حالت کا مجھے علم ہے