خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 398

خطبات محمود ۳۹۸ سال ۱۹۳۸ء اس مضمون میں اصول کے لحاظ سے ہی بحث کروں گا کیونکہ وہ ہمیشہ کے لئے کارآمد ہوتے ہیں ور نہ اعتراض تو لوگ کرتے رہتے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے ) تو رائج شدہ اصل دنیا میں یہی کی ہے اور یہ اسلام کا اور باقی تمام مذاہب کا بھی مسلمہ اصل ہے اگر بعض مسلمان کہلانے والے یا یہودیت کو سچا سمجھنے والے یا عیسائیت کو اختیار کرنے والے غلطی کریں تو یہ اور بات ہے ورنہ قومی طور پر یہی مسلمہ اصل ہے کہ محض الزام لگا دینا کسی مجرم کے ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ہاں جب ثبوت مہیا کیا جائے اور جب انسان ان شواہد کو دیکھ کر یہ قطعی نتیجہ نکالے کہ اب جرم ثابت ہو گیا ہے تو پھر اس کا حق ہے کہ ملزم کو مجرم کہے اس سے پہلے وہ مجرم نہیں ہوتا۔تو جرم انکشاف حقیقت کے بعد ثابت ہوتا ہے چاہے یہ انکشاف عدالت میں مقدمہ کئے جانے کے بعد ہو۔یعنی کوئی باقاعدہ عدالت اس مقدمہ کو سنے اور پھر فیصلہ کر دے۔کہ اب مجرم ثابت ہو گیا ہے اور چاہے ذہنی اور عقلی طور پر کوئی شخص مختلف امور پر غور کر کے ایک نتیجہ قائم کردے کیونکہ ہر انسان کے اندر خواہ وہ ادنیٰ ہو یا اعلیٰ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ ، خدا تعالیٰ نے جی کی قابلیت رکھی ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ انسانی آنکھوں کے سامنے سے کوئی چیز گزرے یا کسی تی اور جس کے ذریعہ سے ایک امر کا اسے علم ہو اور اس کے متعلق انسان کوئی فیصلہ نہ کرے۔پس چونکہ ہر انسان حج ہے اس لئے اگر پورے طور پر سوچنے اور غور کرنے کے بعد کسی شخص پر انکشاف حقیقت ہو جائے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ فلاں مجرم ہے لیکن بہر حال جُرم انکشاف کے بعد ثابت ہوگا نہ کہ پہلے۔اگر مجرم محض مقدمہ دائر کر دینے سے ثابت ہو جا تا ہوتو پھر ہر وہ وکیل جو مدعا علیہ کی طرف سے پیش ہوتا ہے ، مجرم اور گنہ گار ہے کیونکہ وہ مجرم کی امداد کرتا ہے لیکن یہ اصل دنیا میں رائج ہو جائے تو پھر خود ہی سوچو کہاں امن باقی رہ سکتا ہے۔اس قسم کا اعتراض کرنے والے چونکہ نہ صرف عام مسلمان ہیں بلکہ بعض احمدی کہلانے والے بھی ہیں اس لئے کی میں انہیں سمجھانے کے لئے کہتا ہوں کہ فرض کرو کسی جگہ احمدی یا اسلامی حکومت قائم ہو اور وہاں یہ قانون نافذ ہو کہ ملزم کی طرف سے پیش ہونے والا وکیل گنہگار ہوتا ہے تو کیا ایسی کی حکومت سے لوگ ایک دن بھی خوش رہ سکتے ہیں اور کیا ایسی حکومت دنیا میں امن قائم کر سکتی ہے۔آخر عدالت میں مقدمہ تبھی آئے گا جب کسی پر الزام لگے گا کہ اس نے فلاں خلاف قانون