خطبات محمود (جلد 19) — Page 378
خطبات محمود ۳۷۸ سال ۱۹۳۸ء غیرت پیدا ہوگی کیونکہ وہ خیال کرے گا کہ ہمارے گھر نزدیک ہیں، بیوی بچوں تک اس کی آواز کی پہنچے گی تو ان کے اخلاق پر بُرا اثر پڑے گا۔پس اسے منگر کہیں گے گویا وہ الفاظ یا اعمال کی جن کی نسبت طبیعت میں غیرت پیدا ہوتی ہے ، وہ منکر ہیں اور جن کو ہم صرف بُرا سمجھتے ہیں مگران سے غیرت کا سوال وابستہ نہیں ہوتا ان کو فحشاء کہتے ہیں۔اور بغی وہ ہیں جن کو مٹانے کے لئے ہمیں اجازت ہے اور ہر صورت میں ان کا مقابلہ کرنا ہمارے لئے جائز ہے۔اس کے مقابلہ میں انکار یا کراہت کا لفظ بھی ہے۔حدیث میں ہے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا مَنْ رَى مِنْكُمُ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرُهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعُ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَالِكَ أَضْعَفُ الْإِيْمَانِ یعنی تم میں سے اعلیٰ درجہ کا مؤمن وہ ہے کہ جب وہ کسی بدی کو دیکھے تو فلیغیرُهُ بِيَدِہ اسے اپنے ہاتھوں سے مٹا دے فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ یعنی اگر وہ ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو فَبِلِسَانِہ اسے چاہئے کہ وہ زبان سے مٹا دے یعنی تبلیغ کرے اور لوگوں کو بتائے کہ یہ بری بات ہے، اس کو ترک کرنا چاہئے لیکن اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکتا ہو۔کوئی وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ زبان سے بھی مٹا نہ سکتا ہو۔ظالم لوگوں کے قبضہ میں ہے یا مثلاً آجکل ہمارے ملک میں پریس ایکٹ ہے۔بعض باتیں اگر کی لکھی جائیں تو ضمانت ضبط ہو جاتی ہے۔یا نئی ضمانت طلب کر لی جاتی ہے تو فرمایا ، اگر یہ صورت ہو تو دل میں ہی برا سمجھ لیا جائے اور یہ قلیل ترین ایمان ہے جس کے بعد کوئی ایمان نہیں۔مقدم بات تو یہ ہے کہ ہاتھ سے دور کر دے، نہیں تو زبان سے مقابلہ کرے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل میں ہی بُرا منائے اور جو یہ بھی نہیں کر سکتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں۔قرآن کریم میں یہ متینوں باتیں بیان ہیں۔مگر چونکہ مختلف جگہوں سے لینی پڑتی تھیں۔اس لئے میں نے اس حدیث کو لے لیا ہے جس میں یہ سب باتیں ایک ہی جگہ ہیں۔قرآن کریم میں ایک چوتھا طریق اظہار غیرت کا بھی بیان کیا گیا ہے۔جو زبان سے روکنے اور دل میں بُرا منانے کے درمیان ہے اور وہ یہ کہ جب تمہاری محبوب اور بزرگ ہستیوں کی کی ہتک کی جارہی ہو تو اس مجلس سے اٹھ جاؤ اور یہ طریق دل میں برا منانے اور زبان سے مٹانے کے درمیان ہے۔بعض دفعہ ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ اٹھا نہ جا سکے۔مثلاً قیدی - ہے