خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 350

خطبات محمود ۳۵۰ سال ۱۹۳۸ء کیا کرتے تھے تو انہیں کہا جائے گا۔ذى انك انت العَزِيزُ الكَرِيم تو عذاب کا مزه چکھ۔تو تو بڑی شان والا اور معزز آدمی ہے۔اب قرآن کریم میں جو یہ الفاظ آتے ہیں که دق إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الکریم اس کے معنے گو بڑی شان والے اور معزز کے ہیں مگر یہ حقیقت کے لحاظ سے استعمال نہیں کئے گئے بلکہ طعن کے طور پر استعمال کئے گئے ہیں۔یعنی تو دنیا میں سمجھا کرتا تھا کہ میں اتنا بڑا آدمی ہوں مجھے کوئی عذاب نہیں دے سکتا ، میں ایسا معزز ہوں مجھے کوئی ذلت نہیں پہنچ سکتی اب تو دیکھ کہ تیری عزت اور شان کہاں گئی اور اگر تو واقع کی میں شان والا اور معزز ہے تو آج تجھے یہ ذلت کیوں پہنچ رہی ہے گو الفاظ ایسے استعمال کئے گئے ہیں جن کے ظاہری معنے عزت اور شان کے ہیں۔مثنوی رومی کا ایک واقعہ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے۔اس میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ جنگل سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک گڈریا چٹان پر بیٹھا ہوا کی ہے۔پاس اس کی بکریان پچر رہی ہیں اور وہ اپنی گڈری میں سے جوئیں دیکھتا چلا جاتا ہے اور کہتا ؟ جاتا ہے کہ اے اللہ ! اگر تو مجھے مل جائے تو میں تیری جوئیں دیکھوں ، تیرے پیروں سے کانٹے نکالوں ، تجھے بکریوں کا تازہ تازہ دودھ پلاؤں ، تو تھک جائے تو تجھے دباؤں اور تیری دن رات خدمت کرتا رہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سنا تو وہ بڑے ناراض ہوئے اور اسے جا کر ڈانٹا اور مارا اور کہا نالائق تجھے شرم نہیں آتی تو اللہ تعالیٰ کی بے ادبی کرتا ہے۔وہ ڈر کے مارے وہاں سے بھا گا اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر الہام نازل ہو ا کہ اے موسیٰ ! تو نے ہمارے بندے کو بڑا دکھ دیا۔اے موسیٰ ! ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق بات کرتا ہے۔جو الہامات سے تجھ پر صفات الہیہ کا ظہور ہوا ہے وہ اس گڈریا پر تو نہیں ہوا۔پس یہ جو کچھ کہہ رہا تھا محبت کے جوش میں کہہ رہا تھا۔اس سے زیادہ تعریفی الفاظ اس کے نزدیک اور کوئی نہیں ہو سکتے اور اس کا پیارا نہی الفاظ میں ظاہر ہو سکتا تھا کہ اے اللہ ! میں تیری وئیں دیکھوں ، میں تیرے کانٹے نکالوں، میں تجھے بکری کا تازہ تازہ دودھ پلاؤں ، میں تیرے تلوے سہلاؤں، میں تیرے پاؤں دباؤں۔یہی چیزیں اس کے نزدیک اہمیت رکھتی تھیں اور یہی وہ پیار کی ممتاز علامتیں سمجھتا تھا ، تو جو کچھ اس کے پاس اپنی محبت کے اظہار کا