خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 333

خطبات محمود ۳۳۳ سال ۱۹۳۸ء یہ بات کتنی اہمیت رکھنے والی ہے کہ جس چیز کی تعریف وہ اس قدر تواتر کے ساتھ کرتا ہے، اسے خود بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے یا نہیں۔انسان ایک دفعہ بھی جو بات زبان سے نکال دے اس پر اس کا قائم رہنا ضروری ہوتا ہے۔مگر جس بات کو دن میں تمہیں چالیس مرتبہ دُہرائے لیکن جب عمل کا وقت آئے تو اسے نظر انداز کر دے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ صفت رب العلمین کی کوئی حقیقت اس کے نزدیک نہیں ہے اسی لئے وہ اسے اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔بعض حالتوں میں تو میں نے دیکھا ہے کہ بیوی بچے بھی انسان کی اس صفت کی سے محروم رہتے ہیں۔بعض لوگ اپنے بچوں کی روٹی اور لباس کی تو بڑی فکر رکھتے ہیں لیکن انہیں نماز کا پابند بنانے کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں ہوتی۔پھر بعض لوگوں کے دلوں میں تعلیم کی قدر ہوتی ہے اس لئے وہ بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں۔بعض کے نزدیک آداب مجلس کی قدر ہوتی ہے اس لئے ان کو یہ باتیں اچھی طرح سکھاتے ہیں۔بعض ادیب ہوتے ہیں اور وہ اس بات کا بڑا خیال رکھتے ہیں کہ ان کے بچوں کی زبان درست ہو۔جو اپنے پیشہ کو ہمیشہ عزیز رکھتے ہیں وہ اس کی سے اپنے بچوں کو پوری طرح واقف کرتے ہیں۔زمیندار اپنے بچوں کو ہل چلانا اور دوسرے زمیندارہ کام کرنا سکھاتا ہے۔ان کو موسموں کے حالات اور ان کے تغیرات کا فصلوں پر اثر بتا تاج ہے۔انہیں وہ امثال سکھاتا ہے جس میں بیان ہوتا ہے کہ کون سی فصل کیلئے کس موسم میں پانی اچھا ہوتا ہے۔کب گوڈی اچھی ہوتی ہے۔پھر اگر کوئی لوہار یا ترکھان ہے تو وہ اپنے بچوں کو اس کام کی کی باتیں بتاتا ہے لیکن جب خدا رسول کی باتیں یا نماز روزہ کے مسائل سکھانے کو کہا جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ جی اجے نیا نا اے۔یعنی ابھی یہ بہت چھوٹا بچہ ہے۔حالانکہ تم اسے زبان سکھاتے ہو، آداب مجلس سکھاتے ہو، پیشہ کی باتیں سکھاتے ہو، زمیندارہ کی باتیں بتاتے ہو اور کبھی تمہیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ نیا نا، یعنی چھوٹا بچہ ہے لیکن جب دین کا سوال ہو تو جھٹ کہہ دیتے ہو کہ یہ نیا نا ہے۔کیا دین ہی ایک ایسی چیز ہے جو مجھی نہ جاسکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان دی جائے ہے مگر افسوس ہے کہ خدا و رسول نے جن باتوں کو ابتداء میں سکھانے کی ہدایت کی ہے ان کو پیچھے ڈال دیا جاتا ہے اور یہ نہیں سمجھتے کہ سکھانے اور تعلیم دینے کا بہترین وقت بچپن ہی ہے۔اس عمر میں