خطبات محمود (جلد 19) — Page 33
خطبات محمود ۳۳ سال ۱۹۳۸ء۔اور ان سے پھر عہد لیا جائے کہ وہ اسلامی تمدن اور اس کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں کی گے۔جلسہ سالا نہ کی تقریر تو معلوم نہیں کب تک چھپے۔گزشتہ سال کی تقریر بھی ابھی تک مجھے نہیں پہنچی اس لئے دوست کوشش کریں کہ یہ خطبہ ہر ایک احمدی تک پہنچ سکے۔یوں بھی جلسہ سالانہ پر سب لوگ نہیں آسکتے۔بہت سے احمدی ہیں جنہوں نے اس تقریر کو نہیں سُنا۔پھر قادیان کے بھی کئی احمدی ہیں جو انتظامات جلسہ کی وجہ سے یہ تقریر نہیں سن سکے اس لئے قادیان کی سب مساجد میں بھی اس خطبہ کو بار بار پڑھ کر سنایا جائے اور جلسہ پر جو عہد لئے گئے تھے انہیں بھی دُہرایا جائے کی اور پھر جماعت سے وعدہ لیا جائے کہ وہ اس پر عمل کریں گے اور احیائے دین اور قیامِ شریعت کی بنیادوں کو مضبوط کریں گے۔تاقلیل سے قلیل عرصہ میں وہ تمدن قائم ہو جائے جس کو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے اور جس کو قائم کرنے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔پس ہر جگہ یہ خطبہ سب دوستوں کو جمع کر کے سنایا جائے۔قادیان میں بھی کئی مساجد میں نماز ہوتی کی ہے اس لئے یہاں بھی ہر مسجد میں اسے سنایا جائے اور دوبارہ سب سے وعدے لئے جائیں کہ کی وہ اس کی ہدایتوں کے مطابق عمل کریں گے۔بیرونی جماعتوں میں کثرت سے ایسے لوگ ہیں جو جلسہ کے موقع پر نہیں آئے تھے اس لئے اس امر کی ضرورت ہے کہ اس خطبہ کو لوگوں تک پہنچایا جائے اور اسے سنا کر لوگوں سے اقرار لئے جائیں کہ وہ آئندہ اسلامی تمدن اور تہذیب کے مطابق عمل کریں گے۔اور جہاں تک حکومت کا قانون ان کو اجازت دیتا ہے تمدنی ، معاشی ، معاشرتی اور دوسرے معاملات میں اسلامی تعلیم کو رائج کریں گے۔یہ کوئی معمولی کام نہیں۔بعض چیزیں جو دل میں گڑ جاتی ہیں ان کا نکالنا مشکل ہوتا ہے اس لئے اس کام پر سخت جدوجہد کرنی ہوگی۔مثلاً بد دیانتی اور محنت نہ کرنے کا مرض ہے۔یہ ایسا مرض ہے جو بہت ہی خطرناک اور بہت سے نقصانات کا موجب ہے اور یہ ہماری جماعت میں بھی پایا جاتا ہے۔بعض لوگ دوسروں کی سے بلا وجہ روپیہ لے لیتے ہیں اور پھر ادا کرنے کے وقت ہنس کر کہہ دیتے ہیں کہ ضائع ہو گیا۔بعض امانتیں رکھ لیں گے مگر پھر ا دا نہیں کریں گے اور ان چیزوں کو دور کرنے کیلئے ہمارے دوستوں کو بہت سی لڑائی اپنے نفسوں سے اور دوسروں سے کرنی پڑے گی لیکن نتیجہ نہایت اچھا ہوگا کیونکہ اگر ہماری جماعت اپنی دیانت کا سکہ بٹھا دے اور اس لحاظ سے اپنی شہرت قائم کر لے