خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 316

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں شراب نوشی کی اجازت پائی جاتی ہے۔پس بے شک وہ شراب نوشی کو روک رہے ہیں مگر وہ اپنے مذہب پر عمل نہیں کر رہے بلکہ اسلام پر عمل کر رہے ہیں۔اگر دنیا مسئلہ طلاق کی ضرورت کو تسلیم کرنے کی طرف آرہی ہے تو یہ بھی اسلام کی تائید ہو رہی ہے، اگر وہ تعدد ازواج کی اجازت کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی طرف آرہی ہے تو یہ بھی اسلام کی تائید ہورہی ہے، اگر وہ سود کے خلاف ہو رہی ہے تو یہ بھی اسلام کی تائید ہورہی ہے ، اگر وہ کی شراب نوشی کو روک رہی ہے تو یہ بھی اسلام کی تائید ہورہی ہے، مگر تم میں اور ان میں فرق کیا ہے؟ فرق صرف یہ ہے کہ ان میں سے کسی فریق نے اسلامی تعلیم کا ایک ٹکڑہ لے لیا ہے اور کسی فریق نے اس تعلیم کا دوسرا ٹکڑا لے لیا ہے مگر تم وہ ہو جنہیں خدا تعالیٰ نے تمام کی تمام تعلیم دے رکھی ہے۔دنیا اس تعلیم کے ایک ایک ٹکڑے کیلئے لڑائیاں لڑ رہی ہے اور لاکھوں کروڑوں لوگ ایک طرف ہیں اور لاکھوں کروڑوں لوگ دوسری طرف، حالانکہ وہ اسلام کی عمارت کا ایک چھوٹا سا ذرہ ہے مگر تمہارے پاس ہدایت اور رشد کا عالیشان محل تیار ہے۔پس تم پر خدا تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے اور تمہارا فرض ہے کہ تم اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے عملی رنگ میں اسے دنیا میں قائم کرو مگر اس کیلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے علماء اسلامی تعلیم کوعمدگی کے ساتھ جماعت کے دوستوں پر واضح کریں اور انہیں اس پر عمل کرنے کی رغبت دلائیں۔آخر ہمارے پاس طاقت تو کی ہے نہیں کہ جیسے ہٹلر اور مسولینی نے اپنے خیالات لوگوں سے منوالئے ہیں اسی طرح ہم بھی منواسکیں۔ہم تو جب بھی اپنی باتیں لوگوں سے منوائیں گے تبلیغ کے ذریعہ منوائیں گے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جب ہماری جماعت کے اندر یہ روح پیدا ہو جائے گی اور اسے معلوم ہو جائے گا کہ فلاں فلاں معاملات میں اسلام نے یہ تعلیم دی ہوئی ہے تو اس میں سے ہر شخص نہایت ذوق شوق کے ساتھ اس پر عمل کرنے کیلئے کھڑا ہو جائے گا۔مردا اپنی جگہ عمل کریں گے، عورتیں اپنی جگہ عمل کریں گی اور بچے اپنی جگہ عمل کریں گے۔اور اس کے ایسے شاندار نتائج نکلیں گے کہ دنیا یہ تسلیم کرے گی کہ اس تعلیم سے بڑھ کر اور کوئی تعلیم نہیں۔پس ایک طرف یہ علماء کا فرض ہے کہ اسلام نے دنیوی معاملات کے متعلق جو وسطی تعلیم پیش کی ہوئی ہے اسے جماعت کے دوستوں پر اچھی طرح واضح کریں۔صرف وفات مسیح یا