خطبات محمود (جلد 19) — Page 291
خطبات محمود ۲۹۱ سال ۱۹۳۸ء شہید کی قیمت بھی اسی لئے ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ظل ہے اور صالح کی قیمت بھی اسی لئے ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ظل ہے۔کوئی بڑا سا یہ ہے اور کوئی چھوٹا۔اپنی ذات میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ایسی ہے جو حتی اور قیوم ہے۔جو پہلے بھی تھا ، اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔باقی چیزیں آئیں اور فنا ہو گئیں ، آئیں اور مٹ گئیں۔ان کو اگر زندگی ملتی ہے جیسے مَا بَعْدَ الْمَوْت حیات دی جاتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے طفیل ملتی ہے۔اپنی ذات میں ان کے اندر کوئی ایسی خوبی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ ابدی زندگی کے مستحق ہوں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک چھوٹا بچہ جو چل بھی نہیں سکتا ہو سکتا ہے اسے ایک مضبوط انسان اپنی گود میں اٹھالے اور بھاگ پڑے۔اب بچہ یقیناً اس جگہ نہیں ہو سکتا جہاں وہ ایک منٹ پہلے تھا۔وہ اگر پہلے اس جگہ تھا تو ایک منٹ کے بعد پندرہ بیس گز دور چلا جائے گا پھر اور دور چلا جائے گا اور پھر بالکل نظروں سے اوجھل ہو جائے گا مگر وہ بچہ نہیں چل رہا بلکہ آدمی چل رہا ہے۔اسی طرح جو حیات ابدی مرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے وہ انسان کی حیات ابدی نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ کی حیات ابدی ہوتی ہے۔وہ انسان نہیں بڑھ رہا ہوتا بلکہ خدا بڑھ رہا ہوتا ہے۔دنیا میں کون ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑے سے بڑا انسان ہو جو یہ کہہ سکے کہ وہ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر ایک سیکنڈ بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ایک سیکنڈ کیا سیکنڈ کا اربواں حصہ بھی کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔پس مَابَعْدَ الْمَوْت اگر انسان کو ابدی زندگی ملتی ہے تو محض اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی گود میں آجاتا ہے اور چونکہ خدا ہمیشہ کیلئے زندہ ہے اس لئے وہ بھی ہمیشہ کیلئے زندہ ہو جاتا ہے۔تو بندے کے تمام کام دراصل خالی ہوتے ہیں۔پس جب اللہ تعالیٰ اپنی شان میں یہ فرماتا ہے کہ رّحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شيء تو لازماً بندوں کے کاموں میں بھی رحمت کا پہلو وسیع ہونا چاہئے۔اسی وجہ سے بندہ کسی مجرم کو بخشے گا اور کسی کی سزا کو کم کرے گا لیکن کسی مجرم کو وہ سزا بھی دے گا کیونکہ وہ صرف رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ کا مظہر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت یوم الدین کا بھی مظہر ہے۔پس جس جس مقام پر وہ خدا تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے اس مقام کے مناسب حال وہ سلوک کرتا ہے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیوں ایسا کام کرتا ہے جو ملك يوم الدين کا کام ہے، اس لئے کہ جو اس کی مالکیت کا ظلت ہے وہ اس صفت میں اس کا