خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 251

خطبات محمود ۲۵۱ سال ۱۹۳۸ء بعض دفعہ وہ اور ان کے مشیر دونوں غلطی کریں گے لیکن ان درمیانی روکوں سے گزر کر کامیابی انہیں ہی حاصل ہوگی۔جب تمام کڑیاں مل کر زنجیر بنیں گی وہ صحیح ہوگی اور ایسی مضبوط کہ کوئی اسے توڑ نہ سکے گا۔پس اس لحاظ سے خلیفہ وقت کا یہ فرض ہے کہ جس حصہ میں بھی اسے غلطی نظر آئے اس کی اصلاح کرے۔جہاں اس کا یہ فرض ہے کہ منتظمین اور کارکنوں کی پوزیشن قائم رکھے ، وہاں یہ بھی ہے کہ جماعت کی عظمت اور اس کے مشورہ کے احترام کو بھی قائم رکھے۔اگر جماعت کسی کی وقت کارکنوں کے حقوق پر حملہ کرے تو اس کا کام ہے کہ اسے پیچھے ہٹائے۔اگر کبھی کارکن جماعت کے حقوق کو دبانا چاہیں تو خلیفہ کا فرض ہے کہ انہیں روک دے۔مجلس شوری کی گزشتہ رپورٹوں سے جو چھپی ہوئی ہیں یہ بات پوری طرح ظاہر ہوتی ہے کہ میں نے متوازی طور پر ان دونوں باتوں کا خیال رکھا ہے۔اگر ناظروں پر جماعت نے ناواجب اعتراض کئے ہیں تو میں نے سختی کے ساتھ اور بے پرواہ ہو کر ان کے اس فعل کی قباحت کی وضاحت کی ہے اور اگر کبھی کچ ناظروں نے جماعت کو اس کے حق سے محروم کرنا چاہا ہے تو اُن کو بھی ڈانٹا ہے۔یہ متوازی سلسلہ جو خدا تعالیٰ نے جاری رکھا ہے، میں نے ہمیشہ اس کا خیال رکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ اگر ایک طرف ناظروں کا احترام اور اعزاز جماعت کے دلوں میں پیدا کیا جائے تو دوسری طرف جماعت کی عظمت کو بھی قائم رکھا ہے۔میں جانتا ہوں کہ اگر ایک حصہ کو چھوڑ دیا جائے تو کی دوسرے کی عظمت بھی قائم نہ رہ سکے گی۔اور اگر دونوں کو چھوڑ دیا جائے تو با وجود نیک نیتی اور نیک ارادہ کے ایک حصہ دوسرے کو کھا جائے گا۔اگر کارکنوں کے اعزاز اور احترام کا خیال نہ رکھا جائے تو نظام کا چلنا مشکل ہو جائے گا اور اگر جماعت کے حقوق کی حفاظت نہ کی جائے اور اس کی عظمت کو تباہ ہونے دیا جائے تو ایک ایسا آئین بن جائے گا جس میں خود رائی اور خودستائی غالب ہوگی اس لئے میں ہمیشہ اس بات کو مد نظر رکھتا ہوں کہ جس کی غلطی ہو اسے کی صفائی کے ساتھ کہہ دیا جائے۔چنانچہ مجلس شوری کی گزشتہ رپورٹوں سے یہ بات پوری طرح کی ظاہر ہوتی ہے کہ میں نے ناظروں کے اعزاز کو قائم کرنے کا پوری طرح خیال رکھا ہے۔چنانچہ گزشتہ رپورٹوں سے ظاہر ہوگا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ ناظر بعض جگہ گئے اور جماعت نے