خطبات محمود (جلد 19) — Page 218
خطبات محمود ۲۱۸ سال ۱۹۳۸ مجالس خدام الاحمدیہ کیلئے بعض ہدایات ( فرموده ۱/۸اپریل ۱۹۳۸ء ) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - میں نے گزشتہ جمعہ میں نوجوانوں کی تنظیم کے متعلق خطبہ پڑھا تھا آج اسی سلسہ میں بعض اور باتیں کہنا چاہتا ہوں لیکن میرے ان خطبات کے یہ معنے نہیں کہ کسی خاص عمر کے آدمی خصوصیت کے ساتھ میرے مخاطب ہیں کیونکہ گو یہ صحیح ہے کہ نوجوان کی اصطلاح ایک خاص عمر کے آدمی کیلئے بولی جاتی ہے لیکن حقیقتاً انسان نوجوان عمر کے لحاظ سے نہیں بلکہ دل کے لحاظ سے ہوتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ وہ شخص جس کی عمر اٹھارہ سے چالیس سال ہے ضرور نو جوان ہو۔بالکل ممکن ہے کہ اس عمر کا انسان بوڑھا ہو اور اپنی طاقتوں کو ضائع کر چکا ہو اور یہ ضروری نہیں کہ چالیس سال سے زیادہ عمر کا آدمی ضرور ادھیڑ یا بوڑھا ہو۔یہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص بظاہر بوڑھایا ادھیڑ عمر کا نظر آتا ہولیکن اس کا دل خدا تعالیٰ کے سلسلہ کی خدمت کیلئے نو جوانوں سے بھی زیادہ نوجوان ہو۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۶۳ سال کی عمر میں فوت ہوئے مگر کون کی کہہ سکتا ہے کہ ایک دن بھی آپ پر بھی ایسا آیا جب آپ بوڑھے تھے۔چالیس سال کی عمر میں کی جب آپ پر وحی نازل ہوئی آپ کے اندر جو جوانی تھی ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ جوان آپ وفات کے وقت تھے کیونکہ ایمان انسان کی جوانی کو بڑھاتا ہے اور حوصلوں کو بلند کرتا ہے۔