خطبات محمود (جلد 19) — Page 169
خطبات محمود ۱۶۹ سال ۱۹۳۸ء قربانی سے کام لیتے ہوئے اپنے مذہب کی اشاعت کی اور لوگوں نے انہیں قبول کیا۔اگر حضرت رام چندر جی بغیر لڑائی اور تلوار اٹھائے اپنا مذہب دنیا میں پھیلا سکتے تھے تو کیا وجہ ہے کہ حضرت کرشن نہیں پھیلا سکتے تھے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ نے اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا ، اس اعتراض کا دفعیہ اب خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ کرنا چاہتا ہے۔علیہ ال دنیا کہتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نَعُوذُ بِاللَّهِ مذہب پھیلانے کیلئے تلوار چلائی اور لوگوں نے تلوار کے ڈر سے آپ کو قبول کر لیا۔مگر اب خدا نے حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کو دنیا میں اس لئے بھیجا ہے تا آپ دلائل اور براہین کے ساتھ اسلام کو دنیا کے تمام مذاہب پر غالب ثابت کریں اور اس طرح اللہ تعالیٰ ان معترضین کو یہ جواب دے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک شاگرد، ایک خادم اور ایک غلام تبلیغ کے ذریعہ اسلام کو تمام کی دنیا میں پھیلا سکتا ہے تو کیا وہ آقا جس کی قوت قدسیہ نے ایسا عظیم الشان شاگرد پیدا کیا ہے، تبلیغ کے ذریعہ دین نہیں پھیلا سکتا تھا ؟ یقیناً وہ بھی تبلیغ کے ذریعہ اپنا دین پھیلا سکتا تھا مگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے اُس وقت جلال کا ظہور چاہا اور اُسی کی حکمت نے اب جمال کا ظہور دنیا میں فرمایا۔پھر میں نے کئی دفعہ جماعت کے دوستوں کو خواہ وہ قادیان کے ہوں یا باہر کے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جلالی رنگ کے زمانہ میں وہ ہمیشہ جلد جلد ایسی قربانیاں طلب کرتا ہے جن کا نتیجہ تھوڑے ہی دنوں میں ظاہر ہو جاتا ہے جیسے جان کی قربانی ہے۔مگر جمالی زمانہ میں خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے کئی دفعہ بتایا ہے یہ قربانیاں جن کا مطالبہ آہستہ آہستہ کیا جاتا ہے کوئی کم قسم کی یا ادنیٰ قسم کی قربانیاں نہیں ہوتیں بلکہ بعض حالات میں پہلی قسم کی قربانیوں سے یہ زیادہ سخت ہوتی ہیں اور درحقیقت انسانی ایمان کی آزمائش ایسی ہی قربانیوں سے ہوتی ہے۔کیونکہ اول تھوڑی قربانی سے دل پر کی دہشت طاری نہیں ہوتی اور بالعموم انسان اس کے کرتے وقت پوری ہمت سے کام نہیں لیتا۔بے شک جو مؤمن ہوتا ہے وہ باوجود اس کے کہ خطرہ نمایاں صورت میں اس کے سامنے نہیں ہوتا، قربانی کیلئے کھڑا ہو جاتا ہے۔مگر جس کا ایمان کمزور ہوتا ہے وہ اس تسلی میں رہتا ہے کہ ابھی