خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 161

خطبات محمود ,, 66 171 سال ۱۹۳۸ء فرمایا کہ تم انصار یہ کہ سکتے ہو کہ ہم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اُس وقت پناہ دی جب اس کے وطن والوں نے اس کو نکال دیا مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے بعض منافق طبع یوں کہہ سکتے ہیں۔اسی طرح ان الفاظ میں کہ اگر ان دونوں عقیدوں کے چالیس چالیس آدمی بھی میسر آجائیں تو ہم دنیا کو ڈرا سکتے ہیں ایک قانون بیان کیا گیا ہے۔ایک قاتل یا ڈا کو اُٹھتا ہے تو تمام علاقے میں دہشت پیدا کر دیتا ہے۔اسی طرح میں نے یہ کہا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی ڈاکو بننا چاہتا ہے تو اُسے چاہئے کہ جا کر ڈاکوؤں میں شامل ہو۔لیکن اگر ہمارے ساتھ رہنا ہے تو پھر مارکھاؤ۔لیکن میرے ان الفاظ کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے اور اس سارے مضمون کو نظرانداز کر کے پھر ان الفاظ کو نقل کر دیا ہے کہ بہادر وہ ہے جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مار کر پیچھے ہتا ہے۔حالانکہ ان الفاظ میں تو میں نے انسانی فطرت کا ذکر کیا ہے۔کیا دنیا میں ایسے لوگ نہیں گزرے؟ سکندر اور نپولین وغیرہ ایسے ہی لوگ تھے۔ایمان سے باہر بھی تو بہادری کے اظہار کے ذرائع ہیں۔اسی کا میں نے ذکر کیا ہے۔ان الفاظ میں مؤمنوں کا میں نے ذکر نہیں کیا۔کہتے ہیں سکھ بڑے بہادر ہوتے ہیں۔تو کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ بچے مؤمن ہوتے ہیں؟ یہ تو عام دنیوی اخلاق ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔پھر میں نے کہا تھا کہ ان دونوں میں سے ایک اصل اختیار کرو۔جو کچھ میں سمجھتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ میں سچ سمجھتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ بہادر بنو مگر اس طرح کہ مار کھانے کی عادت ڈالو۔اگر ان الفاظ کو وہ ساتھ نقل کر دیتے تو میرا مطلب واضح ہو جاتا۔اس لئے ان الفاظ کو کی انہوں نے چھوڑ دیا ہے۔اسی طرح میں نے تو لکھا تھا کہ اگر تم جیتنا چاہتے ہو۔مگر انہوں نے کی اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے کہ اگر تم جینا چاہتے ہو جس سے ان کی غرض یہ ہے کہ ذہن کی خالص احمدی نقطۂ نگاہ کی طرف پھرے، عام قانون کی طرف لوگوں کی توجہ نہ ہو۔یہ مصری صاحب کا حال ہے۔وہ اس طرح بد دیانتی کے ساتھ میرے فقروں کو پیش کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ دعوی کرتے جاتے ہیں کہ امام جماعت احمد یہ اور جماعت احمدیہ کا ایک حصہ گندہ ہو گیا ہے اور مصری صاحب اس کی اصلاح کیلئے کھڑے ہوئے ہیں۔ایک اور میرا فقرہ یہ ہے کہ شریفانہ اور عقلمندانہ طریق دو ہی ہوتے ہیں۔یا انسان کو مرنا کی