خطبات محمود (جلد 19) — Page 906
خطبات محمود ۹۰۶ سال ۱۹۳۸ء دی جائے۔ایسے شخص کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ دشمنوں کا مقابلہ کرے اور اس وقت تک اپنے مقام کو مت چھوڑے جب تک وہاں احمدیت قائم نہیں ہو جاتی۔وہاں تو ایک لڑائی دُشمنوں سے کی لڑی جارہی ہوتی ہے۔ایک تلوار ہے جو سر پر لٹک رہی ہوتی ہے۔احمدیت نرغہ اعداء میں گھری ہوئی ہوتی ہے۔ایمان اور کفر آپس میں مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں مگر جماعتیں لکھ رہی ہوتی ہیں کہ اُسے فوراً ہجرت کی اجازت دینی چاہئے۔حالانکہ جہاں احمدیت کے لئے مشکلات ہوں وہاں تو ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس جگہ سے اس وقت تک ہلے نہیں جب تک احمدیت کی بنیادیں مضبوط طور پر اُس زمین میں گڑ نہ جائیں مگر تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ جماعتیں اب تک اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھیں اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ ہم تحقیقات کر کے آپ کے خط کا جواب کی دیں گے تو وہ لکھتی ہیں تحقیقات بعد میں کر لیں سر دست اس کو اجازت دے دیں کیونکہ وہ بہت ہی تکلیف میں ہے۔اس سے زیادہ ایک اسلامی اصل کی تضحیک اور کیا ہوسکتی ہے؟ گویا قادیان کی اسلامی جنگ کا مرکز نہیں بلکہ اسلامی بھگوڑوں کا مرکز ہے۔ایسی جماعتیں یقیناً اپنے عمل سے احمدیت کی ہتک کرتی ہیں ، اسلام کی ہتک کرتی ہیں اور سلسلہ کے نظام کی ہتک کرتی ہیں اور ایسے لوگوں کے متعلق یہ کہنا کہ انہیں قادیان میں ہجرت کی اجازت دے دی جائے۔یہ ہجرت کی انتہائی تک ہے۔اگر کسی جگہ بعض لوگوں کو احمدیت کی وجہ سے مشکلات در پیش ہوں تو انہیں اس وقت تک اپنے مقام سے نہیں ہلنا چاہئے جب تک وہ مخالفت احمدیت کے لئے امن کی صورت میں تبدیل نہیں ہو جاتی۔اگر اس طریق پر سختی سے عمل کیا جائے تو یقیناً امن قائم ہو جانے کے بعد وہی لوگ ہجرت کی خواہش رکھیں گے جو بچے دل سے دین کی خدمت کرنے کی تڑپ رکھتے ہوں گے مگر اب جو سینکڑوں لوگ مہاجر بن کر قادیان آئے ہوئے ہیں ان کو دیکھو تو وہ کیا دین کی خدمت کر رہے ہیں ؟ رات دن لون (نمک) تیل اور ترکاری بیچنے میں مشغول ہیں۔اس کے سوا وہ اور کیا کر رہے ہیں مگر کیا اسی کے لئے انہوں نے ہجرت کی تھی ؟ اور کیا یہی ہجرت کی غرض اور اس کی کا مفہوم ہوتا ہے؟ یہی لوگ ہیں جو جماعت کے لئے گلے کا پتھر بنے ہوئے ہیں ، یہی لوگ ہیں جن میں مستفتی پیدا ہوتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن میں سے منافق پیدا ہوتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو احمدیت کو بدنام کرنے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔نہ عبادات میں چست ہیں ، نہ چندے