خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 894 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 894

خطبات محمود ۸۹۴ سال ۱۹۳۸ نہیں رکھیں گے اُس وقت تک اس پر عمارت بھی کھڑی نہیں کی جاسکے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ زمانہ میں جیسا کہ بڑھنے والی قوموں کی مخالفت ہوا کرتی ہے ہماری بھی مخالفت ہے اور اس میں بھی کوئی مجبہ نہیں کہ ہم دُنیا کی بہتری کا خواہ کوئی کام کریں معترض ہم پر اعتراض کرتے چلے جائیں گے اور ہم پر الزام لگانے والے الزام لگاتے ہی رہیں گے اور ہم اس بات پر مجبور ہیں کہ ان فضول اور لغو اعتراضات کی پرواہ نہ کریں جو حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ تعصب حسد یا ضد کی وجہ سے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی بہ نہیں کہ ہمیں اپنے اخلاق اور اپنے معاملات ہر وقت درست رکھنے چاہئیں۔یہ ایک طبعی بات ہے کہ جب کسی قوم پر نا جائز اعتراضات ہوتے ہوں تو بعض دفعہ آہستہ آہستہ اس کے اندر یہ مرض پیدا ہو جاتا ہے کہ دشمن کے اعتراض کو وہ ہمیشہ ہی بے قدری کی نگاہ سے دیکھنے لگ جاتی ہے جبکہ اس کے بعض اعتراض کی صحیح اور درست بھی ہوتے ہیں۔انسان کے اندر خدا تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے کہ جو چیز کثرت سے اس پر وارد ہو اس کا وہ عادی ہو جاتا ہے اور چونکہ اس پر کثرت سے دُشمنوں کی طرف سے کی نا واجب اعتراضات ہوتے ہیں اس لئے وہ قوم ایسی عادی ہو جاتی ہے کہ صحیح اعتراض کی طرف بھی اُس کی پوری توجہ نہیں ہوتی۔ان دنوں قادیان میں ایک سوال ایسا پیش ہے کہ جس سوال کی اہمیت ایک حد تک میں خود بھی تسلیم کرتا ہوں اور دیر سے اس کو تسلیم کرتا چلا آیا ہوں لیکن وہ سوال ایسا سلجھا ہوا نہیں ہے جیسا کہ اس کو سمجھا جاتا ہے بلکہ وہ ایک پیچیدہ سوال ہے اور گورنمنٹ کی طرف سے بعض غلطیوں نے اس میں اور زیادہ پیچیدگی پیدا کر دی ہے اور وہ سوال قادیان کی ٹاؤن کمیٹی کا ہے۔جو دوست میرے ساتھ کام کر رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں قریباً آٹھ دس سال سے یہ سوال اُٹھا رہا ہوں کہ قادیان میں ہندوؤں کی نمائندگی موجود ہے ، سکھوں کی نمائندگی موجود ہے لیکن غیر احمدی عصر جو ان دونوں سے زیادہ ہے اس کی نمائندگی موجود نہیں اور یہ کہ صحیح طریق کار چلانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی نمائندگی بھی ہو لیکن گورنمنٹ نے جس رنگ میں یہاں وارڈ بنائے ہیں اس کے ماتحت ایک کثیر اکثریت کو قانونی جبر کے ساتھ ایسے حالات میں رکھ دیا گیا ہے کہ یا تو وہ اپنی اکثریت سے فائدہ نہ اُٹھا سکے اور یا پھر اقلیت میں تبدیل ہو جائے۔چنانچہ قادیان جیسی