خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 877 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 877

خطبات محمود ALL سال ۱۹۳۸ چلا گیا تو تم یہ عذر کیسے کر سکتے ہو۔یا اگر دوسرا دکاندار کہے کہ یہی بکری کا وقت ہے چھوڑ کر جانا مشکل ہے تو دوسرے کی مثال اس کے سامنے اس پر بطور حجت پیش کی جاسکتی ہے کہ جب بکری کا وقت ہونے کے باوجود وہ چلا گیا تو تم بھی جاسکتے تھے۔اسی طرح بعض کہہ دیتے ہیں کہ وقت کا پتہ نہیں لگا ، اذان سنائی نہیں دی تو اسے کہا جا سکتا ہے کہ دوسرے کے کان بھی ویسے ہی تھے جیسے تمہارے اگر وہ اذان سن سکتا تھا تو یقیناً تم بھی سن سکتے تھے۔تو جو عذر بھی انسان کرے اس کے توڑنے والے اس کے ہمسایہ میں ہی مل جاتے ہیں اور یہی قیامت کے روز اس پر گواہ کی ہوں گے۔ایک شخص کہتا ہے کہ میرے بچے زیادہ تھے اس لئے میں قربانی نہیں کر سکا تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو جو اس سے زیادہ بچوں والا ہے پیش کر کے کہے گا کہ جب اس نے اتنے بچوں کے با وجود قربانی کی تو تم کیوں نہ کر سکے۔ایک شخص کہے گا مالی تنگی بہت تھی اس لئے قربانی نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ دوسرے مالی تنگی والے کو پیش کر دے گا کہ اس کے لئے مالی تنگی تم سے زیادہ تھی پھر کوئی کی وجہ نہیں کہ جب اس نے قربانی کی تو تم اگر چاہتے تو نہ کر سکتے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان قربانی کرنا چاہے تو مشکلات پر غالب آ سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ چندہ کی تحریک کی۔ایک صحابی کے پاس دینے کو کچھ نہ تھا لیکن دل میں شوق تھا کہ حصہ لیں ، ایک شخص کے پاس پہنچے اور اس سے کہا کہ مجھ سے سارا دن کام لو اور کم سے کم مزدوری دے دینا۔چنانچہ دو مٹھی جو مزدوری مقرر ہوئی آپ نے تمام دن کام کیا اور شام کو جو جو ملے وہ لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ضرورت ہزاروں روپے کی تھی کیونکہ ایک لڑائی کا سامان کیا جارہا تھا۔مگر انہوں نے لا کر دو مٹھی کو دیئے تو بجائے اس کے کہ منافقین کے دل میں غیرت پیدا ہوتی اور وہ کہتے کہ یہ غریب محنت و مشقت کر کے جو کچھ حاصل کر سکالے آیا ہے انہوں نے طنزیہ رنگ میں کہنا شروع کیا کہ لوجی دو مٹھی جو سے اب دنیا فتح ہوگی سے اور اس طرح اس قربانی پر ہنسی اور تمسخر کرنے لگے۔انہوں نے اس مخلص کی نیکی سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ اسے اپنے مرض میں اضافہ کا موجب بنالیا۔قیامت کے روز جب منافق اس موقع پر قربانی نہ کر سکنے کے عذرات پیش کریں گے اور اپنی مشکلات بتائیں گے اور ان سب کے جواب میں اللہ تعالیٰ اس دو مٹھی جو پیش کرنے والے کو پیش کر دے گا تو ان کی کیا عزت رہ جائے گی۔