خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 864 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 864

خطبات محمود ۸۶۴ سال ۱۹۳۸ء وہ طریق اختیار نہیں کریں گے جو وہ ہمارے متعلق اختیار کرتا رہا ہے کیونکہ شریف شرافت سے بدلہ لیا کرتا ہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ ایک افسر تھا جسے اپنے ماتحت سے ضد تھی اور وہ کبھی کبھی اس پر سختی کر لیا کرتا تھا۔ایک دفعہ اس نے اسے گالی دے دی وہ ماتحت بہت با غیرت نو جوان تھا اسے یہ بات بہت بُری معلوم ہوئی مگر چونکہ وہ افسر کے مقابلہ میں کچھ کر نہیں سکتا تھا اس لئے خاموش ہورہا۔کچھ عرصہ کے بعد جنگ چھڑ گئی اور اسی افسر کو ایک بالا افسر کی طرف سے کی ایک پہاڑی فتح کرنے کا حکم دیا گیا اور اسے تاکید کی گئی کہ جس طرح بھی ہو یہ پہاڑی ضرور فتحی کی جائے اس نے بہت زور لگایا مگر وہ اس پہاڑی کو فتح نہ کر سکا۔جب وہ عاجز آ گیا تو اس نے کی تمام سپاہیوں کو اکٹھا کیا اور کہا آج میری اور تمہاری عزت کا سوال ہے اور مجھے ایسے نوجوان کی درکار ہیں جو اپنی جان قربان کرنے اور موت کو قبول کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔چونکہ ی اس پہاڑی کو فتح کرنا یقینی موت تھا اس لئے اس نے جبری حکم نہ دیا بلکہ کہا کہ جو شخص خوشی سے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہے وہ آگے آئے یہ سن کر وہی نو جوان جسے اس نے گالی دی تھی آگے بڑھا اور اس نے اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کر دیا۔اسے دیکھ کر اور نو جوان بھی آگے بڑھے اور انہوں نے بھی اپنے آپ کو پیش کر دیا۔چنانچہ ان سب نے پہاڑی پر دھاوا بول دیا اور اس نوجوان نے تو ایسی بے جگری سے حملہ کیا کہ اپنی طرف سے موت قبول کرنے میں اس نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔جہاں گھمسان کی لڑائی ہوتی وہاں وہ پہنچ جاتا اور جہاں زیادہ خطرہ ہوتا کی اس میں بے دھڑک گو دجا تا۔آخر یہ جد و جہد نتیجہ خیز ہوئی اور وہ پہاڑی فتح ہو گئی۔فتح کے بعد نام چونکہ افسر کا ہی ہونا تھا اور اعزاز افسر کو ہی ملنا تھا اس لئے وہ بڑی خوشی کے ساتھ نیچے کھڑے ہو کر یہ نظارہ دیکھ رہا تھا۔جب فتح کے بعد وہ نو جوان واپس آیا تو افسر نے آگے بڑھ کر اس کی کی طرف اپنے ہاتھ پھیلا دیئے اور کہا میں تم کو مبارک باد دیتا ہوں مگر جب اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو نو جوان نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور کہا۔آپ کو یاد ہے آپ نے فلاں وقت مجھے گالی دی تھی۔میرے دل میں اس گالی کا احساس تھا اور میں نے آج اس گالی کا آپ سے اسی طرح بدلہ لے لیا ہے جس طرح ایک شریف بدلہ لیا کرتا ہے۔کیونکہ میری اس قربانی کی وجہ سے آپ کا نام مشہور ہوگا۔آپ کو رتبہ میں ترقی ملے گی اور آپ کو اعزازی خطاب مل جائیں گے۔