خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 824 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 824

خطبات محمود ۸۲۴ سال ۱۹۳۸ء پاؤ گے اور اگر کم قربانی کرو گے تو بالکل ممکن ہے کہ قیامت کے دن تم جو اپنے آپ کو ایم۔اے سمجھ رہے ہو انٹرنس پاس ثابت ہو اور ایک انٹرنس پاس خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایم۔اے ثابت ہو۔پس وہ لوگ جنہوں نے کمزوری دکھائی تھی ان کیلئے اس بات کا موقع ہے کہ وہ اپنی پچھلی کمزوریوں کا اس رنگ میں کفارہ ادا کریں کہ تحریک جدید کے اس سال میں پہلے سالوں سے زیادہ حصہ لیں تا خدا تعالیٰ کے حضور ان لوگوں کا نام کمزور لوگوں میں نہ لکھا جائے بلکہ ان لوگوں میں لکھا جائے جنہوں نے اس کے دین کے جھنڈا کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ بلند رکھا۔اس کے مقابلہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی مالی حالت خدا تعالیٰ نے پہلے سے زیادہ مضبوط کر دی ہے۔آج سے چار سال پہلے ان کی حالت سخت کمزور تھی مگر آج خدا تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے مالا مال کیا ہوا ہے ایسے لوگوں کی یہ بے وقوفی ہوگی اگر وہ اپنے چندوں میں کمی کی کریں۔جب خدا تعالیٰ نے ان سے خاص سلوک کیا ہے تو ان کا بھی فرض ہے کہ وہ خاص کی جواب دیں۔پس وہ لوگ جن کی مالی حالت کو اللہ تعالیٰ نے مضبوط بنایا ہے ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں اپنے چندہ میں کمی کرنے کی بجائے اسے بڑھاتے چلے جانا چاہئے اور وہ جن کی مالی حالت تو اللہ تعالیٰ نے اچھی رکھی ہو مگر وہ چندے کو بڑھا نہ سکتے ہوں انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنے معیار کو قائم رکھیں۔پس گو قانون یہی ہے کہ چندہ میں ہر سال دس فیصدی کمی کی اجازت ہے مگر اس سے فائدہ اس کو اٹھانا چاہئے جو واقع میں معذور اور مجبور ہو اور جو واقع میں مجبور اور معذور نہ ہو اسے اس سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے۔میں نے خود گزشتہ سال پہلے سالوں سے زیادہ چندہ دیا تھا اور با وجود سخت مقروض ہونے کے اب بھی زیادہ ہی دینے کا ارادہ ہے اور بھی کئی دوست ہیں جنہوں نے پہلے سالوں سے زیادہ چندہ پیش کر دیا کی ہے اور بعض مخلصین نے تو ایسا نمونہ دکھایا ہے کہ ان پر رشک آتا ہے۔ایک دوست ہیں وہ اپنی کچ ملا زمت سے ریٹائر ہوئے تو انہیں گورنمنٹ کی طرف سے پراویڈنٹ فنڈ ملا۔وہ اب بوڑھے اور کمزور ہو چکے ہیں اور کوئی تجارت وغیرہ کا کام نہیں کر سکتے ، ان کا گزارہ جو کچھ ہے اسی پراویڈنٹ فنڈ پر ہے مگر انہوں نے پراویڈنٹ فنڈ ملتے ہی تحریک جدید کے دوسرے سات سالہ دور کا چندہ اکٹھا ہی بھجوا دیا اور لکھ دیا کہ میری طرف سے یہ دفتر میں بطور امانت رکھ لیا جائے کی