خطبات محمود (جلد 19) — Page 807
خطبات محمود ۸۰۷ سال ۱۹۳۸ء آئے اور کہنے لگے آپ سکھوں سے بات کرنا چاہتے تھے سو یہ لوگ آگئے ہیں۔میں نے کہا کہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ میں خود قادیان کے سکھوں کو بلواؤں گا ، یہ تو نہیں کہا تھا کہ آپ انہیں لے آئیں لیکن بہر حال میں نے اُن سے گفتگو شروع کر دی اور میں نے کہہ دیا کہ اب اس گفت وشنید کا جو نتیجہ نکلے اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہوگی کیونکہ میری ہدایت کے خلاف کام کیا گیا ہے۔مجھے یقین ہے کہ جو صاحب سکھوں کو میرے پاس لائے تھے وہ ایسے ہی تھے جو صلح نہیں کرنا چاہتے تھے اور وہ لڑائی جھگڑے کے متعلق متہم تھے۔چنانچہ وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔میں ان سے گفتگو کے دوران یہ ذکر کر رہا تھا کہ میرے دادا صاحب نے اور بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور ان کے بعد میں نے بھی قادیان میں گائے کے ذبیحہ کو محض اس وجہ سے رو کے رکھا کہ اس وقت تک اس کی اقتصادی طور پر زیادہ ضرورت معلوم نہیں ہوتی تھی اور ہم پسند نہیں کرتے تھے کہ خواہ مخواہ ہماری ہمسایہ اقوام کا دل دُکھایا جائے۔چنانچہ ایک دفعہ جب بعض لوگوں نے قادیان کے ایک ملحقہ گاؤں سے مذبح کی درخواست دی تو میں نے خود ڈپٹی کمشنر صاحب کو کہلوا کر مذبح کو رکوا دیا تھا۔اس پر ایک سکھ صاحب بولے آپ بالکل غلط کہتے ہیں آپ نے ہمیشہ مذبح کے کھولے جانے پر زور دیا ہے مگر جب چاروں طرف سے ناکامی ہوئی تو آپ نے اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ میں نے خود مدیح کو رکوایا تھا۔میں نے ان ہندو صاحب کی طرف دیکھا اور کہا دیکھ لیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ مجھے اکٹھے نہ ملیں ورنہ صلح کی گفتگو درمیان میں ہی رہ جائے گی۔اس پر دوسرے سکھ صاحب جو جتھے دار تھے وہ کہنے لگے ان کی بات جانے دیجئے یہ بڑی جلدی غصہ میں آجاتے ہیں اور بات کو سمجھتے نہیں۔اب میں آپ سے گفتگو کرتا ہوں۔چنانچہ وہ غصہ میں آنے والے احباب فرمانے لگے صلح بڑی اچھی چیز ہے۔میں نے کہا یقیناً۔وہ کہنے لگے پھر کوئی ایسی کوشش ہونی چاہئے جس سے یہ مذبح کا سوال جاتا رہے۔یہاں تک تو بڑی اچھی گفتگو تھی مگر اس کے معاً بعد وہ کہنے لگے ورنہ یاد رکھئے سکھ یات مر جائیں گے یا مار دیں گے اور خون کی ندیاں بہا دیں گے۔میں نے کہا بس پہلے آپ اس فقرہ کو پورا کر لیں۔آپ نے جتنی ندیاں بہانی ہیں وہ بہالیں اور اگر ایسی دھمکیوں سے ہی مذیج کو روکنا چاہتے ہیں تو روک کر دیکھ لیں میں اس سے ہر گز نہیں رکوں گا۔چنانچہ وہ اٹھ کر چلے گئے