خطبات محمود (جلد 19) — Page 806
خطبات محمود ۸۰۶ سال ۱۹۳۸ء پس آپ قادیان میں مجھ سے ملیں۔چنانچہ میں اپنا سفر منقطع کر کے دوسرے ہی دن قادیان آگیا حالانکہ میرے برادر نسبتی میجر تقی الدین احمد صاحب انہی دنوں ولایت سے پڑھ کر آئے تھے اور قدرتی طور پر ان کی ہمشیرہ کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ وہ اپنے بھائی کے پاس چند دن رہیں مگر معاً وہاں کی اقامت کو قطع کر کے میں واپس آ گیا مگر انہیں نہ معلوم کس نے ورغلا دیا کہ باوجوداس کے کہ میں نے ان سے کہا تھا کہ وہ قادیان میں مجھ سے ملیں اور باوجود یکہ میں ان کی خاطر سفر منقطع کر کے واپس آ گیا تھا ، وہ مجھ سے ملنے نہ آئے۔اس کے کچھ عرصہ بعد جب بات اور زیادہ پختہ ہوگئی تو پھر ہندوؤں کا ایک وفد میرے پاس آیا۔میں نے ان سے کہا کہ اب کئی قوموں کا سوال پیدا ہو چکا ہے۔ایک طرف غیر احمد یوں نے اس معاملہ میں ہمارا ساتھ دیا ہے دوسری طرف سکھوں نے جھٹکہ کا سوال چھیڑ کر میری پوزیشن نازک کر دی ہے کیونکہ ذبیحہ گائے کا روکنا احساسات کے احترام پر مبنی ہے اور مسلمانوں میں یہ شکایت پیدا ہو چکی ہے کہ جب کی دوسرا فریق ہمارے احساسات کا خیال نہیں رکھتا تو ہمیں اس کے احساسات کے لئے اس قدر بڑی قربانی کرنے پر کیوں مجبور کیا جاتا ہے۔پس میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے سکھوں سے اور اپنی جماعت کے علاوہ دوسرے مسلمانوں سے بات کرنے کا موقع دیں میں دونوں فریقوں کو سمجھا کر ایسی صورت پیدا کروں گا کہ آپ لوگوں کی دل شکنی نہ ہو۔میں نے انہیں یہ بھی کہا کہ میں نے اپنے ذہن میں ایسی سکیم سوچ بھی لی ہے جس سے احمدیوں اور غیر احمدیوں کی بھی دل جوئی ہو جائے گی اور سکھ بھی مان جائیں گے مگر میں نے کہا کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ سکھ مجھ سے الگ ملیں اور آپ الگ ، اگر آپ اکٹھے ہو کر میرے پاس آئے تو معاملہ بگڑ جائے گا کیونکہ سکھوں میں سے کچھ لوگ آپ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم خون کی ندیاں بہا دیں گے مگر مذبح نہیں بننے دیں گے۔جب وہ آپ لوگوں کے سامنے ہوں گے تو انہیں وہ باتیں یاد آجائیں گی اور وہ اپنی زبان بدلنے میں شرم محسوس کریں گے۔پس مناسب ہے کہ میں ان سے الگ بات کروں۔چنانچہ اس پر وہ لوگ چلے گئے اور میں نے اپنے ذہن میں ایک سکیم سوچ لی جس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں میں سمجھتا تھا کہ تینوں قوموں کی دل جوئی ہو جائے گی لیکن میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب دوسرے تیسرے دن ایک آریہ صاحب دو سکھوں کو لے کر میرے پاس کی