خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 703 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 703

خطبات محمود ۷۰۳ سال ۱۹۳۸ بڑا بزرگ ہے۔تو اس قسم کی مجرد خواہش ہی اعلیٰ چیز سمجھی جاتی ہے گجا یہ کہ وہ پوری بھی ہو جائے۔تڑپ اور جوش اپنی ذات میں ہی نیکی ہوتے ہیں۔محبوب اپنے محب کی بات سنے یا نہ سنے ، مطلوب ملے یا نہ ملے، طالب کے دل میں اسے پانے کی تڑپ کا موجود ہونا اپنی ذات میں بہت اعلیٰ اور مبارک بات ہے۔جس طرح دنیا میں بڑے بڑے کامیاب آدمی مشہور ہوتے ہیں ہزاروں سال ان کا نام دنیا میں چلتا ہے اسی طرح کچی تڑپ رکھنے والے نا کام بھی مشہور ہوتے ہیں۔سکندر دنیا میں مشہور ہے اس نے معلومہ دنیا کا بیشتر حصہ فتح کر لیا تھا ہزار ہا سال گزر چکے ہیں۔دو ہزار سے زیادہ لیکن آج تک اس کا نام دلوں سے محو نہیں ہوا۔رستم ایک پہلوان تھا بادشاہ نہ تھا مگر کامیاب زندگی بسر کرنے اور دشمنوں کو مغلوب کرنے کی وجہ سے جو لوگ اس کی حقیقت سے قطعاً واقف نہیں وہ بھی اس کا نام لیتے ہیں۔جب کوئی بڑے دعوے کرے تو کہتے ہیں بڑا رستم آیا ہے حالانکہ کہنے والے کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ رستم کون تھا اور کہاں کا رہنے والا تھا۔حاتم نیک کاموں کی وجہ سے اتنا مشہور ہے کہ مخلوق میں سے ایک بڑے حصہ کی زبان پر اس کا نام ہے کوئی بڑا سخی ہو تو کہتے ہیں یہ تو حاتم زماں ہے اور اگر کوئی تھوڑی سی سخاوت کے بعد بڑے بڑے دعوے کرنے لگے اور اس پر فخر کرے تو کہتے ہیں کہ اس نے حاتم کی قبر پر لات ماری ہے۔تو یہ لوگ کامیاب تھے اور اپنے اپنے خاص فن یعنی کوئی بہادری، کوئی سخاوت اور کوئی فتوحات میں نمایاں تھے اور اس وجہ سے مشہور ہیں مگر جس طرح یہ مشہور ہیں اسی طرح بعض نا کام بھی مشہور ہیں۔جس طرح دنیا رستم ، سکندر اور حاتم کا نام لیتی ہے اسی طرح بلکہ شاید اس سے زیادہ مجنوں کا نام لیتی ہے گوی وہ کامیاب نہیں تھا۔وہ ایک عورت کی وجہ سے دیوانہ ہوا اور اسی وجہ سے مجنوں کہلایا۔اس کا نام قیس تھا اس نے ایک عورت کی خواہش کی مگر اسے حاصل کئے بغیر ہی مر گیا اور اپنی معشوقہ سے شادی کا موقع اسے نہ مل سکا مگر دنیا میں جس طرح سکندر کا نام مشہور ہے اسی طرح قیس کا ہے بلکہ ہندوستان میں سکندر کا نام جاننے والے کم اور قیس کا عرف جاننے والے زیادہ ملیں گے۔اپنے صوبہ میں دیکھ لو کتنے لوگ سکندر کا نام جانتے ہیں اور کتنے رانجھا کا حالانکہ وہ کامیاب