خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 678 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 678

خطبات محمود ۶۷۸ سال ۱۹۳۸ء نہیں تھا جب وہ خلعت پہن چکا تو اتفاقاً اُسے چھینک آئی جس سے اُس کا ناک بہہ پڑا۔شاید اُسے نزلہ کی شکایت تھی۔یہ دیکھ کر وہ سخت گھبرایا اور اُس نے بادشاہ کی بے ادبی کے ڈر سے جیب پر ہاتھ جو مارا تو دیکھا کے رومال نہیں۔اسے اور زیادہ فکر لاحق ہوا اور اب وہ سوچنے لگا کہ کیا کروں؟ آخر اس مصیبت سے بچنے کے لئے اُس نے ایک طرف منہ کر کے اسی خلعت کے ایک کو نہ سے اپنا ناک پونچھ لیا۔اتفاقاً بادشاہ کی بھی اُس پر نظر پڑ گئی۔بس یہ دیکھتے ہی اسے قہر آگیا۔بادشاہ نے بے تحاشہ اُسے گالیاں دینی شروع کر دیں کہ بڑے بے حیا اور کمینہ ہو، ہم نے تمہاری عزت افزائی کی اور تم نے ہمارے خلعت کے ساتھ یہ سلوک کیا کہ اس سے اپنا ناک پونچھ لیا۔پھر اُس نے حکم دیا کہ اس کا خلعت اُتار لیا جائے ، اس سے تمام عہدے چھین لئے جائیں اور اسے ذلیل کر کے دربار میں سے نکال دیا جائے۔ادھر بادشاہ نے یہ حکم دیا اور اُدھر شبلی رونے لگ گئے اور روتے ہی چلے گئے۔بادشاہ نے اُن کی طرف دیکھا اور کہا شبلی تمہیں کیا تج ہو گیا ؟ کیا تم پاگل ہو گئے ہو جو روتے ہو؟ شیلی کہنے لگے حضور میرا استعفیٰ منظور کیجئے۔وہ کہنے لگا کیوں ؟ معلوم ہوتا ہے کہ شبلی کے دل میں کوئی نیکی اور تقویٰ تھا جو اُن کے کام آ گیا اور وہ کہنے لگے حضور ! آپ نے اس جرنیل کو خلعت دیا اور اس کی عزت افزائی فرمائی مگر یہ خلعت اس کی قر بانیوں کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتا تھا ؟ کچھ بھی نہیں۔وہ سال دو سال آپ کے دشمن کے مقابلہ میں برسر پر کا ررہا۔وہ ہر روز اپنی بیوی کو بیوہ اور اپنے بچوں کو یتیم بنا دینے کے ارادہ سے نکلتا اور گھمسان کی لڑائیوں میں آپ کی عزت اور آپ کی حکومت کی وسعت کے لئے گھس جا تا۔ہر روز اس کی جان خطرے میں تھی ، ہر روز اس پر ایک موت آتی تھی۔کوئی دن نہ تھا جس میں وہ آپ کی عزت کے لئے اپنی بیوی کو بیوہ اور اپنے بچوں کو یتیم بنانے کا تہیہ نہ کرتا مگر اتنی بڑی قربانیوں کے بعد آپ نے اسے جو خلعت دیا وہ گو اُس کی قر بانیوں کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا تھا مگر آپ نے اتنا بھی گوارہ نہ کیا کہ اس نے آپ کے عطا کردہ خلعت سے ناک کیوں پونچھ لیا اور آپ نے اسے اپنے خلعت کی بے حرمتی قرار دیا۔حضور اس سے بہت زیادہ قیمتی خلعت وہ ہے جو خدا نے مجھے دیا ہوا ہے۔یہ ناک ، یہ کان ، یہ منہ، یہ آنکھیں ، یہ زبان یہ ہاتھ ، یہ پاؤں ، یہ دماغ ، یہ اعضاء اور یہ تمام طاقتیں اللہ تعالیٰ کا خلعت ہیں۔میں آپ کی خاطر