خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 673 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 673

خطبات محمود ۶۷۳ سال ۱۹۳۸ء دنیا دار شخص ایسے موقع پر دعا ، فریب ، جھوٹ اور مکاری کا سہارا لے لیتا ہے مگر مومن کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان امور سے بچو۔تم نہ فریب سے کام لو، نہ جھوٹ سے کام لو ، نہ دھوکا سے کام لو اور نہ اور کسی نا جائز ہتھیار کو استعمال کرو۔اب جبکہ ایک کمزور انسان کے تمام دنیوی سہارے شریعت نے لے لئے تو سوال پیدا ہوتا تھا کہ وہ کیا کرے؟ سہارا تو ایک کمزور انسان کے لئے ضروری تھا اور اس سے سہارے کو لے لینا ایسا ہی ہے جیسے ایک لجے کی سوئیاں لے لی جائیں یا بیمار کے نیچے سے گاؤ تکیہ نکال لیا جائے یا ایک کمزور انسان جب کرسی پر بیٹھنے لگے تو اس کے نیچے سے کرسی نکال لی جائے۔ایسی حالت میں اسے لازماً کسی اور سہارے کی ضرورت پیش کی آئے گی اور وہ کہے گا میں کس پر سہارا لوں ، میں تو گر جاؤں گا۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کا جواب دیا ہے۔فرمایا ہے از حعُوا تم ہمارے اوپر سہارا لے لو اور ہم پر جھک جاؤ یہ ایسی کی بات ہے جیسے کوئی انسان دوسرے کمزور انسان کی سوئی تو لے لے مگر اپنا کندھا اس کے سامنے پیش کر دے اور کہے کہ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلو۔اسی طرح جب اور نا جائز ہتھیاروں اور ناجائز سہاروں سے اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا تو فرمایا چونکہ تمہیں کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ہے اس لیے ہم تمہیں کہتے ہیں تم ہم پر جھک جاؤ اور ہمارا سہارا لے لو۔توارُ كَعُوا کا لفظ توکل علی اللہ پر دلالت کرتا ہے اور اس میں یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر تو کل کرنا اور سمجھ لینا چاہئے کہ میرے کاموں میں جو نقص ہے خدا تعالیٰ اس کا خود ذمہ دار ہے کیونکہ جب کامیابی کے حصول کی دُنیوی تدابیر سے اس نے منع کر دیا تو اب وہ ہمارا خود ذمہ دار ہے اور وہ آپ ہمارے نقصوں اور ہماری خامیوں کو پورا کرے گا۔پھر فرماتا ہے واسْجُدُوا د اعبدوا ربكم یہاں واسْجُدُوا میں جو سجدہ کا لفظ آتا ہے اس سے مراد بھی نماز والا سجدہ نہیں ہے اس لئے کہ آگے واعبدوا ربکم کے الفاظ آتے ہیں جس میں سجدہ بھی شامل ہے۔پس اس جگہ سجدہ سے مراد بھی وہ سجدہ نہیں جو ہم زمین پر کرتے ہیں بلکہ و اسجدوا کے معنی ہیں۔اے مومنو! تم کامل فرمانبرداری سے کام لو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پوری اتباع کرو اور جس کی طرح وہ حکم دیتا ہے اسی طرح کرو۔چاہے وہ حکم تمہاری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔بسا اوقات انسان ایک چیز کے متعلق جانتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیش کی گئی ہے مگر اپنی نادانی سے