خطبات محمود (جلد 19) — Page 668
خطبات محمود ۶۶۸ سال ۱۹۳۸ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی بات بیان فرمائی ہے پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے جیوش انسائیکلو پیڈیا میں جوزیفس نامی مشہور مؤرخ کے حوالہ سے بھی اسی حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے۔اسی طرح یہودیوں مسیحیوں اور رومیوں تینوں قوموں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل کئے گئے۔اتنی بڑی شہادتوں کے بعد یہ بالکل ناممکن ہے کہ قتلِ بیٹی کا انکار کی کیا جاسکے۔اور اگر کوئی شخص اتنی بڑی شہادتوں کے بعد بھی شبہ کی گنجائش نکالتا ہے تو اس کے لئے دنیا میں کسی ایک صداقت کا معلوم کرنا بھی ناممکن ہے کیونکہ ہر صداقت انہی ذرائع سے کی ثابت ہوتی ہے۔اور اگر ان ذرائع اور شواہد کا انکار کر دیا جائے تو پھر کوئی صداقت ثابت نہیں ( الفضل ۱۷ ستمبر ۱۹۳۸ء) ہوسکتی۔“ متنی باب ۱۴ آیت ۱ تا ۱۲۔برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لنڈن ۱۸۸۷ء ( مفہوماً ) شعب الايمان للبيهقى ج۷ صفحه ۳۱۸ دار الكتب العلمية بيروت لبنان مطبوع ۱۹۹۰ء مستدرک حاکم ج ۳ صفحه ۵۵۵ کتاب معرفة الصحابة باب ذكر عبدالله بن زبير Po ك ال عمران: ۱۱۳ حمامة البشریٰ صفحہ ۴۸ ۴۹۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۱۴، ۲۱۵ ے تحفہ گولڑو یه صفحه۲ ۲۵ روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۳۳۸ ۱۲ اعجاز اسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۱۵ ۱۶۰۔ایڈیشن ۲۰۰۸ء تذكرة الشهادتین صفحه ۹۴ - روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۹۴ ۱۴ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲۔حاشیہ صفحہ، ۳۵