خطبات محمود (جلد 19) — Page 64
خطبات محمود ۶۴ سال ۱۹۳۸ء کہ کھانا آئے تو میں کھاؤں مگر کھانا کوئی نہ آیا۔یہاں تک کہ گیارہ بج گئے اور ہم وہاں سے رُخصت ہو گئے۔راستہ میں میں نے حافظ روشن علی صاحب مرحوم سے جو میرے ساتھ تھے پوچھا کہ کیا آج ہماری یہاں دعوت نہیں تھی ؟ اور کیا ہمیں غلطی تو نہیں لگی کہ ہم دعوت کے خیال سے یہاں آگئے ؟ وہ اتفاق سے اس علاقہ میں رہ چکے تھے۔وہ کہنے لگے کھانا آیا جو تھا آپ نے نہیں کھایا ؟ میں نے کہا کھانا کون سا آیا ؟ کچھ چٹنیاں آئی تھیں وہ میں چکھ کر چھوڑتا گیا۔کہنے لگے وہی تو کھا نا تھا۔میں نے کہا میں نے سمجھا کہ یہ صرف ہاضمہ کے تیز کرنے کیلئے چٹنیاں آرہی ہیں اور چونکہ مجھے کھانسی کی شکایت تھی میں چکھ کر چھوڑ دیتا تھا ، کھاتا نہ تھا اور خیال کرتا تھا کہ اصل کھانا بعد میں آئے گا۔کہنے لگے یہی چٹنیاں جو انہوں نے بھجوائی تھیں کھانا تھیں۔تو بعض علاقوں میں چٹنیاں بھی کھانا کبھی جاتی ہیں جیسے میرے ساتھ واقعہ پیش آیا۔یہاں تک کہ مجھے راستہ میں دریافت کرنا پڑا کہ آیا ہماری یہاں دعوت بھی تھی یا نہیں۔اگر اس قسم کی چٹنیاں ہوں تو پھر یہ بھی کھانے میں شمار ہوں گی اور ان میں بھی سادگی اور حد بندی کی ضرورت ہوگی۔لباس کے متعلق بھی بعض دوستوں نے دریافت کیا ہے حالانکہ لباس کی سادگی نہایت ضروری چیز ہے۔میں نے دیکھا ہے لباس میں سادگی نہ ہونے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ امیروں اور ی غریبوں میں ایک بین فرق ہے۔امیر اپنے کپڑے سنبھالے بیٹھے رہتے ہیں اور ہر وقت انہیں یہ خیال رہتا ہے کہ کہیں کپڑے پر داغ نہ لگ جائے ، کہیں میلا نہ ہو جائے اور اس طرح وہ غرباء ے پرے رہتے ہیں۔پس لباس میں سادگی نہایت ضروری ہے بلکہ میں یہاں تک کہوں گا کہ اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک جوڑا ہے اور وہ اسے ایسی احتیاط سے رکھتا ہے کہ ہر وقت اسے یہ خیال رہتا ہے کہ کہیں اُس پر دھبہ نہ پڑ جائے ،کہیں اُس پر داغ نہ لگ جائے اور اس کی طرح غریبوں سے اس کے دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے تو اس نے ہر گز تحریک جدید کے اس کی مطالبہ پر عمل نہیں کیا۔اس کے مقابلہ میں اس شخص کو میں زیادہ سادہ کہوں گا جس کے پاس دو یا تین جوڑے کپڑوں کے ہیں اور وہ ان کے متعلق ایسی احتیاط نہیں کرتا جو امارت و غربت میں امتیاز پیدا کر دیتی ہے۔در حقیقت لباس میں ایسا تکلف جو انسانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کا موجب ہو جائے ، جو بنی نوع انسان میں کئی قسم کی جماعتیں پیدا کرنے کا محرک ہو جائے ،