خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 607

خطبات محمود ۶۰۷ سال ۱۹۳۸ء اور آپ کے صحابہ میں بھی یہ باتیں تھیں اور آپ سے پہلے انبیاء اور ان کی جماعتوں میں بھی مگر وہ سنتے تھے اور چُپ رہتے تھے کیونکہ سمجھتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رستے میں ہے اور یہی چیز ہے جو ان کو خدا تعالیٰ کے حضور پیارا اور محبوب بنا دیتی ہے اور جو مرنے کے بعد ان کے کام آئے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی محبت دیکھیں گے کہ جسے دیکھ کر ان کو گالیاں دینے والے اگلے جہان میں کٹ کٹ کر مریں گے جب خدا تعالیٰ ان کو پیار کرے گا ، جب وہ محبت کے تمام ظہور ان کے لئے ظاہر کرے گا تو ان کو گالیاں دینے والے کہیں گے کہ کاش! دنیا کی بیسیوں سالوں کی تج خوشیاں نہ ہوتیں اور اس جہان کی ایک منٹ کی خوشی حاصل ہو جاتی۔اور یہی وہ چیز ہے جس کے لئے مؤمن یہ ساری باتیں برداشت کرتے ہیں ورنہ اور کیا چیز ان کی ڈھارس بندھاتی ہے پس اس ایک ہی چیز کو سنبھالنا نہایت ہی ضروری ہے۔ہمارے سب کاموں کی بنیا د تقوی اللہ پر ہونی چاہئے اور ہمارے تعلقات بھی خدا تعالیٰ کے لئے ہونے چاہئیں کسی سے دوستی یا دشمنی کے لئے نہیں۔مجھے یہ مضمون دیکھ کر نہایت تعجب ہوا اور میں نے چاہا کہ دوستوں کو پھر ایک دفعہ نصیحت کروں کہ اپنے معاملات اور تعلقات کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے رکھا کرو اور ان کی بنیاد کسی قسم کی نفرت یا محبت پر نہ رکھو۔میں نے بعض اپنے گزشتہ خطبات میں ہی بیان کیا ہے کہ بعض لوگ کسی سے محبت یا نفرت کی وجہ سے ٹھو کر کھا جاتے ہیں وہ کسی سچی بات کو نفرت کی وجہ سے قبول نہیں کرتے۔اور دوست کی جھوٹی بات کو بھی سچ سمجھ لیتے ہیں۔مولوی غلام رسول صاحب نے یہ مضمون اخبار میں اشاعت کے لئے بھیجا ہے اور گو وہ شائع نہیں ہوا مگر وہ اس کی اشاعت کی اجازت دے چکے ہیں بلکہ وہ خوش ہوتے اگر یہ شائع ہو جاتا۔اس لئے اس کو شائع شدہ سمجھ کر اس کے متعلق بعض باتیں کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔مولوی صاحب لکھتے ہیں وہ پاک نیت کے ساتھ اپنے اپنے معلومات کے دائرہ کے اندر صداقت کی تائید میں قلم کو جنبش دینا خواہ حقیقت نفس الامری کے لحاظ سے مضمون کی نوعیت کی صداقت سے مختلف نظر آئے ، پھر بھی موجب ثواب ہے۔ہاں بعد انکشاف حقیقت وا تمام محبت ضد کے ساتھ قبول حق سے اعراض اختیار کرنا سخت عیب اور غیر مناسب ہے۔ہمیں تعلیم احمدیت