خطبات محمود (جلد 19) — Page 598
خطبات محمود ۵۹۸ سال ۱۹۳۸ء دے دی تھی حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صریح فتوی موجود ہے کہ کسی مکفر ، مکذب یا متردد کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کی یہ بھی عادت تھی کہ آپ اپنی اجازت کی تشریح بھی کر دیا کرتے۔چنانچہ اس اجازت کے بعد اس شخص کا بھائی بھی آیا کہ مجھے بھی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔اُس وقت میں آپ کی مجلس میں بیٹھا تھا۔آپ نے میری طرف دیکھ کر اُسے فرمایا تمہارے بھائی کو تو ہم نے اس لئے اجازت دی تھی کہ وہ نماز پڑھتا ہی نہیں تھا۔پس میں نے کہا جب وہ نماز پڑھتا ہی نہیں تو چلو اس اجازت کے ماتحت کم از کم اسے نماز پڑھنے کی عادت تو ہو جائے گی مگر ہم تمہیں اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔اگر اجازت لینا چاہتے ہو تو تم پہلے اپنے بھائی کی طرح بن جاؤ پھر ہم تمہیں بھی اجازت دے دیں گے تو یہ ایک حکیمانہ رنگ تھا اسے فتویٰ نہیں کہا جا سکتا۔میں نے ابھی مولوی ابو العطاء صاحب کے پیش کردہ تمام حوالوں کو نہیں دیکھا مگر انہوں نے جو میرا حوالہ پیش کیا ہے اس میں چونکہ غلطی رہ گئی ہے ممکن ہے ان کے دیکھنے سے مضمون کی زیادہ گھل جاتا۔میں نے آج اس بارہ میں کئی اور صحابہ سے بھی پوچھا ہے کہ انہیں اس مسئلہ کے متعلق کیا یا د ہے۔میاں بشیر احمد صاحب نے یہ جواب دیا کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی روایت تو یاد نہیں مگر اتنا یقینی طور پر یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہمارا یہی عقیدہ ہوا کرتا تھا کہ بعض انبیاء قتل بھی ہوئے ہیں مگر یہ مجھے یاد نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے ایسا سنا ہو۔میر محمد اسحاق صاحب نے بھی یہی جواب دیا کہ مجھے کوئی حوالہ تو یاد نہیں مگر یہ یاد ہے کہ ہمارا عقیدہ یہی ہوا کرتا تھا کہ بعض انبیا قتل بھی ہوئے ہیں۔پھر میں نے اپنی شہادت پیش کی ہے اور ماسٹر عبدالرحمن صاحب ، میر مہدی حسین صاحب اور حافظ محمد ابراہیم صاحب کی گواہیوں سے بھی یہی ثابت ہے۔بعض اور صحابہ کو بھی میں نے خطوط لکھوائے ہوئے ہیں اور میرا منشاء ہے کہ اس مسئلہ کے متعلق صحابہ کی روایتوں اور ان کے تاثرات کو جمع کر دوں کیونکہ صحابہ کرتے چلے جاتے ہیں اور اگر ہم نے جلدی توجہ نہ کی تو بعد میں کسی قیمت پر بھی ان باتوں کو حاصل نہیں کر سکیں گے۔۲۹ مگر بہر حال جب تک ہم لوگ زندہ خطبہ کے بعد اور شہادات بھی ملی ہیں جو الگ شائع کی جارہی ہیں۔منہ