خطبات محمود (جلد 19) — Page 58
خطبات محمود ۵۸ سال ۱۹۳۸ء سنت سے یہی ثابت ہے کہ آپ ایک کھانا کھانے پر اکتفا کیا کرتے تھے۔إِلَّا مَا شَاءَ اللہ خاص دعوتوں یا عیدین کے موقع پر آپ نے ایک سے زائد کھانے کھالئے تو یہ اور بات ہے۔چنانچہ ان قیود سے عیدوں کو میں نے پہلے ہی مستی کر دیا تھا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب یہ سوال پیش ہوا تو آپ نے عیدین کے متعلق فرمایا یہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کیلئے کھانے پینے کے دن رکھے ہیں۔سے تو میں نے سادہ طعام کے متعلق جو ہدایت دی تھی اس میں یہ اصول مقرر کیا تھا کہ عیدوں پر ایک سے زائد کھانا کھانے کی اجازت ہے۔ہاں لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق پھر بھی سادگی کو مد نظر رکھیں کیونکہ جب سادہ زندگی کی اصل کے طور پر ہے تو اس میں وسعت پیدا کرتے وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ہمارے پنجاب میں اچھی اچھی دعوتوں کے موقع پر صرف چار پانچ کھانوں پر لوگ کفایت کرتے ہیں لیکن انگریزوں میں جہازوں اور ہوٹلوں میں عام کھانے ہی سات آٹھ سکتے ہیں اور کی ان کے رات کے ڈنر میں تو پندرہ پندرہ سولہ سولہ کھانے ہوتے ہیں۔گو وہ سارے پکے ہوئے کی نہیں ہوتے بلکہ بعض کھانے چٹنیوں کی قسم کے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی بہت سے کھانے پکتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ہمارے ہندوستان کے ہی بعض گوشوں میں مہمان نوازی کی تعریف یہ سمجھی جاتی ہے کہ میں تمیں ، چالیس چالیس کھانے پکائے جائیں۔مجھے اپنی عمر میں صرف ایک دفعہ ایسی دعوت میں شریک ہونے کا موقع ملا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے وقت کی بات ہے کہ ہم بعض دوست ایک وفد کی صورت میں ہندوستان کے مختلف مدارس دیکھنے کیلئے گئے۔جب دورہ کرتے ہوئے ہم ایک شہر میں پہنچے تو وہاں ایک پرانی وضع کے نہایت مخلص احمدی تھے۔انہوں نے میرے آنے کی خوشی میں دعوت کی اور اس خیال سے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں میرے اعزاز میں انہوں نے بہت سے کھانے پکائے۔میں نے وہ کھانے گئے تو نہیں مگر یہ مجھے یاد ہے کہ جو کھانے میرے دائیں بائیں رکھے گئے تھے وہ اتنے تھے کہ اگر میں اپنے دونوں ہاتھ پھیلا بھی دیتا تو وہ دائیں بائیں کی طشتریوں کو نہیں ڈھانپ سکتے تھے اور جو میرے سامنے کھانے پڑے تھے وہ اتنے زیادہ تھے کہ اگر میں لیٹ بھی جاتا تب بھی بعض کھانے دور رہ جاتے۔میں نے جب اس قدرکھانے پکے ہوئے دیکھے تو ایک دوست سے