خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 576

خطبات محمود ۵۷۶ سال ۱۹۳۸ء وإذا جاءَكَ الذِينَ يُؤْمِنُونَ بِايَتِنَا فَقُلْ سَلْمُ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلى نفسه الرحمة ۱۲ یعنی جب تیرے پاس ہماری آیتوں پر ایمان لانے والے لوگ آئیں تو ان کو ہمارا یہ پیغام دے دینا کہ تم پر سلام ہو اور تمہارے رب نے تمہارے لئے اپنے آپ پر رحمت واجب کر لی ہے۔یہ سلام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حالانکہ ان میں سے کئی شہید ہوئے۔پھر سب مومنوں کی نسبت آتا ہے کہ الذِينَ تَتَوَقِّهُمُ الْمَلَيْكَةُ طَيْبِينَ يَقُولُونَ سَلمُ عَلَيْكُمُ ، ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ١٣ یعنی جن لوگوں کی روح فرشتے اس حالت میں نکالتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں۔فرشتے انہیں اس وقت یہ کہتے چلے جاتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔جاؤ اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جاؤ۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ فرشتے مومنوں کی جان کئی طرح نکالتے ہیں۔بعض کی شہادت کے ذریعہ سے نکالتے کی ہیں تو کیا اگر سلامتی کے معنے دشمنوں کے ہاتھوں سے نہ مارے جانے کے ہیں تو یہ عجیب بات نہ ہو گی کہ دشمن ان کو قتل بھی کر رہا ہو گا اور فرشتے ساتھ سلام سلام بھی کرتے جارہے ہوں گے۔گویا جو بات ہو رہی ہو گی اسی کی تردید کر رہے ہوں گے۔اسی طرح سورۃ طہ میں آتا ہے والسلم على مَنِ اتَّبَعَ الهُدی سے جو بھی ہدایت کے تابع چلے اس پر سلامتی ہے۔اگر سلام کے معنے دشمنوں کے قتل سے محفوظ رہنے کے لئے جائیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ کبھی کوئی مومن قتل نہیں ہوتا پھر سورہ مائدہ میں مومنوں کی نسبت فرماتا ہے يَهْدِي بو الله مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُل ۱۵ یعنی قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کو جو خدا تعالیٰ کی رضا کے تابع ہوتے ہیں سلام کے راستے دکھاتا ہے۔اب اگر سلام کے معنے دشمنوں کے ہاتھوں قتل نہ ہونے کے کئے جائیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو ایسی زندگی بخشتا ہے کہ وہ کبھی دشمن کے ہاتھ سے قتل نہیں ہوتے۔جو بالبداہت غلط ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ سلام ایک وسیع معنوں کا لفظ ہے۔بعض موقعوں پر یقیناً اس کے یہ معنی بھی ہوں گے کہ دشمن کے کسی حملے سے بچالے ، بعض جگہ بیماری سے بچانے کے ، بعض جگہ نا کا می سے بچانے کے معنے ہوں گے لیکن بغیر کسی زبر دست قرینے کے ایک خاص معنے ایک عام لفظ کے کرنے اور اسے نص قرار دے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کو اس کے ماتحت کرنے کی