خطبات محمود (جلد 19) — Page 522
خطبات محمود ۵۲۲ سال ۱۹۳۸ کرنے والے ہوں۔چندہ دینا، تبلیغ کرنا، یہ ایسی نیکیاں ہیں جو الوہیت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور نمازوں کو سنوار کر پڑھنا، ذکر الہی کرنا ہنسی ٹھٹھے سے بچنا ، روزہ رکھنا ، حج کرنا یہ ایسی نیکیاں ہیں جو نفس انسانی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور ان کی تکمیل کئے بغیر انسان کبھی اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچ سکتا اور یہ ایسی عبادات ہیں جن میں دوسروں کا کوئی فائدہ نہیں۔فکر کی صحت، خیالات کی پاکیزگی وغیرہ باتوں کی طرف بھی دوستوں کو ایسی ہی توجہ کرنی اہئے جیسی چندہ کی طرف۔جو شخص صرف ان باتوں کی طرف توجہ رکھتا ہے جو دوسروں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور اندرونی اصلاح کا فکر نہیں کرتا۔اس کی مثال اس شخص کی ہے جو دوسرے کے گھر کی حفاظت کے لئے تو جائے مگر اپنے گھر کی فکر نہ کرے۔دوسرے کے گھر کی حفاظت بھی اچھی بات ہے لیکن اپنے گھر کو تباہ کر لینا بھی درست نہیں۔اگر انسان کا اپنا نفس خراب رہے اور بیرونی دنیا اچھی ہو جائے تو اسے کیا۔جب نفس کی حالت درست نہ ہو تو سب سے پہلے اسے درست کرنا چاہئے اور پھر دوسروں کی اصلاح سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔اگر تمہارے اندر الوہیت کا جلوہ نہیں یعنے تم دوسروں کو نہیں بچا سکتے یا دوسروں کا خیال تو رکھتے ہولیکن تمہارا اپنا نفس تباہی کی طرف جا رہا ہے تو تمہارا وجود ایک کافر کے وجود کی طرح ہے جو نہ اپنے کام آ سکتا ہے اور نہ دوسروں کے۔مومن وہی ہے جو اپنی جان کو بھی بچاتا ہے اور دوسروں کو بھی۔وہ الوہیت کا بھی مظہر ہوتا ہے اور عبودیت کا بھی۔یہی اصل غرض ہے دنیا کے پیدا کرنے کی کہ ایسی مخلوق پیدا کی جائے جو ایک طرف خدا تعالیٰ کی مظہر ہو اور دوسری طرف عبود بیت کی۔خدا تعالیٰ اپنی باریک مصلحتوں کے ماتحت چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کچھ ایسے بھی ہوں جو الوہیت کی چادر اوڑھنے والے ہوں اور دوسری طرف مخلوق کا بھی کامل مظہر ہوں۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس امر کی طرف خصوصیت سے توجہ کریں کہ خالی چندے دے دینا یا تبلیغ کر دینا کافی نہیں۔ہنسی اور ٹھٹھے کی عادت چھوڑ دو، نماز اور روزہ کو با قاعدگی کے ساتھ ادا کرو، جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے ان کے لئے حج بھی ضروری کی ہے۔بیسیوں ایسے ہیں جن کو حج کی توفیق ہے مگر وہ خیال نہیں کرتے۔کئی ملازم ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پنشن لے کر حج کو جائیں گے لیکن یہ خیال نہیں کرتے کہ پنشن پانے کے بعد زندگی پائیں کی