خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 506

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء کہ تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اُن تک خبریں پہنچاتے ہیں تو اس فیکم کے یہ معنے تو نہیں ہیں کہ وہ مدینہ میں رہنے والے ہیں ، فیکم کے یہ معنی بھی نہیں کہ وہ تمہارے ساتھ لڑائیوں میں شامل ہونے والے ہیں بلکہ فیکفر کے یہ معنی ہیں کہ وہ بظا ہر تمہاری طرح نہایت پکے مسلمان ہیں ، وہ تمہاری طرح نمازیں پڑھتے ، تمہاری طرح روزے رکھتے ، تمہاری طرح زکوتیں دیتے ، تمہاری طرح حج کرتے اور تمہاری طرح جہاد میں شامل ہوتے ہیں۔اگر اس ایک بات کی کو نکال دیا جائے جو اُن میں پائی جاتی ہے تو تم میں اور اُن میں کوئی فرق نہیں ہوگا مگر لا تَرْكَنُوا إِلَى الّذینَ ظَلَمُوا کے حکم کی خلاف ورزی نے باوجود تم میں سے ہونے کے اُنہیں منافقوں میں شامل کر دیا ہے ورنہ عمل اُن کا وہی ہے جو تمہارا ہے، عقیدہ اُن کا وہی ہے جو تمہارا ہے۔بعض نے کہا ہے چونکہ یہ آیت رستہ میں نازل ہوئی تھی اِس لئے اِس سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور مسلمانوں کی باتیں سن کر منافقوں تک پہنچا دیتے تھے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ان معنوں کو لیا جائے تب بھی وہی بات آجائے گی جو میں نے بیان کی ہے کہ وہ لڑائی میں شامل ہوئے ، انہوں نے جہاد میں حصہ لیا، وہ مسلمانوں کے دوش بدوش لڑے اور سب جانتے تھے کہ وہ منافق نہیں بلکہ مخلص ہیں سوائے اُن چندلوگوں کے جن کے متعلق یہ آیت نہیں اور جو درمیان میں ایک جگہ شرارتا بیٹھ گئے تھے باقی سب مخلص تھے قرآن کریم خود اس امر کی وضاحت کرتا اور فرماتا ہے تو خرجوا فيكُمْ مَّا زَادُوكُمْ إِلا خَبَالا کہ اگر منافق نکلتے تو تمہیں فائدہ تو کوئی نہیں پہنچتا البتہ نقصان ضرور ہو جاتا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر منافق لڑائی میں شامل نہ ہوئے تھے پس فیكُمْ سَمْعُونَ لَهُمْ میں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ منافق نہیں بلکہ مومن ہیں اور اگر ان میں نفاق ہے تو اتنا کہ وہ بدقسمتی منافقوں سے دوستی رکھتے ہیں۔اُن تک مسلمانوں کی خبریں پہنچاتے اور اُن کے اعتراضات طوطے کی طرح رٹ کر عام لوگوں میں پھیلاتے ہیں لیکن عام تعلقات منافقوں سے رکھنے کے باوجود وہ نمازیں پڑھتے ، وہ روزے رکھتے ، وہ زکوۃ دیتے ، وہ حج کرتے اور باقی تمام احکام اسلام کو بجالاتے ہیں لیکن باوجود ان احکام کی بجا آوری کے وہ ایسے مقام پر کھڑے ہوتے ہیں کہ