خطبات محمود (جلد 19) — Page 505
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء کہ انہیں دوزخ کے سب سے نچلے حصہ میں ڈالا جائے گا اور چونکہ اُس نے اس جماعت کے لوگوں سے دوستی ترک کر دی جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید تھی اور ان کے ساتھ اُس کی دلی وابستگی نہ رہی اور بد قسمتی سے اُس کی دوستی اُن لوگوں کے ساتھ ہو گئی جو منافق تھے اور جن کے دلوں میں مرض پایا جاتا تھا اس لئے اب وہ اس دوستی کی وجہ سے ہمیشہ ان کا ساتھ دیتا ہے انہیں بڑا مخلص اور نیک قرار دیتا ہے اور اگر وہ کوئی اعتراض کریں تو کہتا ہے یہ تو اصلاح کی تی خاطر اعتراض کر رہے ہیں ان کی غرض کوئی فتنہ و فساد پیدا کرنا تھوڑا ہے۔پس وہ اعتراض کا نام اصلاح رکھتے ، بد گوئی کا نام خیر خواہی رکھتے اور عیب چینی کا نام نصیحت رکھتے ہیں اور اسی کو قرآن کریم نے منافقت قرار دیا ہے۔چنانچہ وہ فرماتا ہے منافقوں کو جب پکڑا جاتا ہے تو کہتے ہیں إنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ١٨ ہم تو صرف اصلاح کی نیت سے یہ باتیں کر رہے تھے حالانکہ اگر ان کا مقصد محض اصلاح ہوتا تو انہیں چاہئے تھا کہ نظام سلسلہ کے ذمہ داروں کے نوٹس میں وہ امر لاتے نہ یہ کہ الگ تھلگ بیٹھ کر اپنی مجالس میں ان باتوں کو بیان کرتے اور اس طرح لوگوں کے قلوب میں مختلف قسم کے وساوس پیدا کرتے۔اگر ہماری جماعت کے دوست ان چاروں قسم کے منافقین کو اچھی طرح سمجھ لیں تو بہت سے فتنوں کا سدِ باب ہو سکتا ہے۔مجھے ہمیشہ یہ حیرت ہوتی ہے کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے جب بعض کو معلوم ہوتا ہے فلاں منافق ہے تو وہ اُس کے پاس جاتے اور اُس سے کسی مسئلہ کے متعلق کی گفتگو شروع کر دیتے ہیں اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ مسائل میں اُسے کوئی اختلاف نہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں کو غلطی لگی ہے یہ تو حضرت مسیح موعود کو نبی مانتا ہے۔پھر وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نماز پڑھتا ہے یا نہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ وہ نمازوں میں بھی باقاعدہ ہے تو کہتے ہیں کہ اب یقین ہو گیا کہ ہمارے بھائیوں کو اس کے متعلق ضرور غلط نہی ہوئی ہے۔پھر وہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ چندے دیتا ہے یا نہیں اور جب اُنہیں معلوم ہو کہ چندے بھی دیتا ہے تو پھر انہیں حق الیقین ہو جاتا ہے کہ وہ منافق نہیں حالانکہ قرآن یہ کہتا ہے کہ ایک منافق ایسا بھی ہوتا ہے جو اعمال کے لحاظ سے ویسے ہی عمل کرتا ہے جیسے مؤمن اور عقائد کے لحاظ سے ویسے ہی عقائد رکھتا ہے جیسے مؤمن مگر پھر بھی منافق ہوتا ہے۔آخر جب خدا نے یہ کہا ہے کہ وَ فِيْكُمْ سَمْعُونَ لَهُمْ