خطبات محمود (جلد 19) — Page 488
خطبات محمود ۴۸۸ سال ۱۹۳۸ء لالچ سے، اگر نمازیں پڑھے گا تو بھی ڈر سے یا لالچ سے۔فرض کرو اسے کسی احمدی کے پاس میں روپے کی ملازمت مل گئی ہے تو اب اگر یہ سو ایا ڈیرھ روپیہ چندہ دے دیتا ہے تو دل میں یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ پھر بھی میرے پاس ساڑھے اٹھارہ یا پونے انہیں رو پے تو بچ گئے۔پس وہ چندہ اس لئے نہیں دیتا کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے بلکہ اس لئے دیتا ہے کہ اسے اٹھارہ یا اُنیس روپے تو مل رہے ہیں۔گویا وہ احمدیت میں داخل ہو کر کوئی دین کی خدمت نہیں کرتا بلکہ اٹھارہ یا انیس روپے کماتا ہے۔جیسے زمیندار جب زمین میں بیج ڈالتا ہے تو اس سے کئی گنا فصل کاٹتا ہے اسی طرح وہ روپیہ یا سوار و پیہ چندہ دیتا اور ۱۸ یا ۱۹ روپے خود وصول کرتا ہے۔پس وہ سمجھتا ہے کہ یہ چندہ دینا میرے لئے کوئی گراں نہیں کیونکہ اگر میں چندہ نہیں دوں گا تو مجھے ملازمت سے الگ کر دیا جائیگا۔اسی طرح منافق بعض دفعہ ڈر کی وجہ سے نماز پڑھتا۔یا روزے رکھتا یا حج کرتا یا زکوۃ دیتا ہے۔مثلا فرض کرو وہ کسی کا نوکر نہیں بلکہ آزاد ہے لیکن اسکے تمام رشتے دار احمدی ہو چکے ہیں تو اب اگر وہ نمازیں نہیں پڑھتا یا روزے نہیں رکھتا تو سمجھتا ہے کہ یہ میری شکائت کریں گے، اور کہیں گے بے دین ہو گیا۔پس وہ ان کے ڈر کی وجہ سے نمازیں بھی پڑھ لیتا ہے اور روزے بھی رکھ لیتا ہے تا اس کی کمزور حالت پر پردہ پڑا ر ہے۔اسی طرح وہ چندے دیتا ہے تا اس کے دوسرے بھائی بند جوش میں نہ آئیں اور وہ یہ نہ کہیں کہ یہ ایماندار نہیں مگر میں یہ اسی شخص کی نسبت کہتا ہوں جس کے اندر اخلاص نہیں ہوتا۔بعض لوگ یوں مخلص ہوتے ہیں۔مگر کسی سُستی کی وجہ سے چندہ نہیں دیتے۔ان لوگوں کا بیان نہیں ہے کیونکہ میں ان کی لوگوں کو منافق نہیں سمجھتا۔جیسے ایک گزشتہ خطبہ میں میں نے مثال دی تھی کہ ایک جگہ جہاں بعض لوگ چندے میں سُست تھے ہم نے تحریک کی کہ بجائے مردوں کو کہنے کے اُن کی عورتوں سے جا کر کہو کہ وہ اپنے مردوں کو چندہ دینے کے لئے آمادہ کریں۔چنانچہ ایک عورت کو جب ایسی تحریک کی گئی تو اُس کے بعد ایک دن جب اس کا خاوند گھر میں تنخواہ لایا تو وہ کہنے لگی میں یوں کی روپیہ نہیں لیتی یہ حرام کا روپیہ ہے۔وہ کہنے لگا حرام کا روپیہ کس طرح ہو گیا میں صبح سے شام تک کام کرتا ہوں پھر کہیں مہینے کے بعد جا کر روپیہ ملتا ہے یہ حرام کیونکر ہوا ؟ وہ کہنے لگی جب تک خدا کا حق اس میں سے ادا نہیں کرو گے میں اسے استعمال نہیں کروں گی اگر چاہتے ہو کہ میں