خطبات محمود (جلد 19) — Page 48
خطبات محمود ۴۸ سال ۱۹۳۸ء رکھتا ہے وہ ایسا سامان مہیا کرتا ہے کہ جس سے اخلاق درست ہو کر آئندہ نسلوں کی تربیت صحیح رنگ میں ہو سکے۔تحریک جدید کے دوسرے دور کے متعلق میں نے جو یہ کہا ہے کہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا میں اسلامی اخلاق قائم کر سکیں ، یہ بات بھی اس کا ایک حصہ ہے۔میں نے پچھلے سال بعض خطبات بیان کئے تھے جن میں بتایا تھا کہ زبانی دعوؤں سے ہم دنیا کو مرعوب نہیں کر سکتے۔یہ کام عمل سے ہی ہو سکتا ہے۔عقائد کے لحاظ سے ہم نے دنیا میں غلبہ حاصل کر لیا ہے مگر عملی لحاظ سے ابھی ایسا نہیں کر سکے۔پس ہمیں سوچنا چاہئے کہ ابھی تک ہم ایسا کیوں نہیں کر سکے۔اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ ایمان سے عادت کا گہرا تعلق نہیں ہوگا مگر عمل سے ہوتا ہے مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کا مسئلہ ہے۔اس سے عادت کا کوئی تعلق نہیں۔جس دن کسی شخص کے دماغ میں یہ بات آجائے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں، اس کے بعد اس پر عادت کے حملہ کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہتا کیونکہ خیالات کا تعلق عادت سے بہت ہی کم ہوتا ہے اور جب خیال کی اصلاح ہو جائے تو عادت خود بخود پیچھا چھوڑ دیتی ہے۔مگر عمل کے ساتھ عادت کا بہت گہرا تعلق ہے اس لئے صرف عقائد کی اصلاح سے اعمال کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ایک کمزور احمدی سے بھی جب کوئی غیر احمدی پوچھتا ہے کہ سناؤ جی حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں یا زندہ ہیں ؟ تو وہ یہی جواب دیتا ہے کہ فوت ہو گئے ہیں۔جب کسی درمیانہ درجہ کے احمدی سے یہ سوال کرتا ہے تو وہ بھی یہی جواب دیتا ہے۔کسی اعلیٰ درجہ کے احمدی سے سوال کرتا ہے تو وہ بھی یہی جواب دیتا ہے۔کسی جاہل احمدی سے پوچھتا ہے تو وہ بھی یہی کہتا ہے اور کسی عالم سے پوچھتا ہے تو وہ بھی یہی بات قرآن کریم اور حدیث کی رو سے اسے سمجھاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت کی ہو گئے ہیں۔مگر جب سچ کے بارہ میں وہ ایک احمدی سے ملتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیوں جی سچ بولنا چاہئے؟ تو وہ کہتا ہے ہاں ضرور چاہئے۔خواہ کچھ ہو سچ بولنا ضروری ہے۔پھر وہ کسی کی دوسرے احمدی سے ملتا اور پوچھتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ ہاں سچ بولنا تو چاہئے مگر ہمارے جیسے کمزوروں سے کہاں بولا جاتا ہے۔پھر وہ کسی تیسرے احمدی سے ملتا اور یہی سوال کرتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ جی کہتے تو ہیں کہ بیچ بولنا چاہئے مگر ہمیشہ سچ بولنے سے بھلا گزارہ ہوسکتا ہے۔پھر